کورٹ رپورٹر
لاہور ہائی کورٹ نے نامور گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں ٹرائل کورٹ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے منگل کے روز گلوکار علی ظفر کی جانب سے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے میں اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو کیس 30 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی جس میں ٹرائل کورٹ کے اس سابقہ حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت انہیں کیس کے حتمی فیصلے تک عوامی بیانات دینے سے روک دیا گیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے اختتام تک بیانات پر پابندی عائد کرنا قانونی اور جائز ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ہے، تاہم منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لیتی ہے۔
سماعت کے دوران میشا شفیع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہتکِ عزت کے مقدمات میں حکمِ امتناع عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتوں کو حتمی فیصلے تک بیانات پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
واضح رہے کہ 2018 میں علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں انہوں نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔





