ہم نے ایران جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اسرائیل نے اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر لیے ہیں، تاہم انہوں نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی حتمی بات کرنے سے گریز کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج نے جنگ کے دوران اہم پیش رفت حاصل کی ہے، جس میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور اس کی ہتھیاروں کی صنعت کو کمزور کرنا شامل ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں پاسدارانِ انقلاب کے ہزاروں اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں اور ایران کے دفاعی نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کی ہتھیاروں کی پیداوار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے قریب ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایران میں موجودہ نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد سے خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اس سے قبل یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ یہ جنگ طویل عرصے کے بجائے چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا آ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹس بھی ان دعوؤں کی مکمل تائید نہیں کرتیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے، اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے۔