آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق The Wall Street Journal نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر نے اپنے قریبی معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں، چاہے آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ بھی کھولی جائے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ان کے مشیران کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے مزید فوجی کارروائی تنازع کو طول دے سکتی ہے، جو پہلے سے طے شدہ چار سے چھ ہفتوں کی مدت سے آگے نکل جائے گا۔ اسی لیے فوجی آپشن کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ ایران کی بحریہ اور میزائل صلاحیت کو نشانہ بنا کر اپنے اہداف حاصل کیے جائیں، جس کے بعد سفارتی دباؤ کے ذریعے تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کیا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران اس پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا تاکہ اہم عالمی تجارتی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دے چکے ہیں اور بصورت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، تاہم اب ان کے حالیہ بیان نے پالیسی میں ممکنہ نرمی کا اشارہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے