ایران سے منسلک ہیکرز نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑے سائبر حملے میں کم از کم 50 کمپنیوں اور اداروں کو نشانہ بنا کر ان کا اہم ڈیٹا تباہ کر دیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایرانی سائبر گروپس نے ملک بھر میں سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیکرز نے نہ صرف اداروں کے ڈیٹا سسٹمز میں رسائی حاصل کی بلکہ کم از کم 50 سیکیورٹی کیمروں کو بھی ہیک کیا، جن کا مقصد ایرانی میزائل حملوں کے اثرات اور اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔
حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیکرز کتنی دیر تک ان کیمروں تک رسائی رکھتے رہے، تاہم اس دوران حساس معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی سائبر ڈائریکٹوریٹ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل رافیل فرانکو کے مطابق کم از کم تین مختلف ہیکر گروپس نے ان کارروائیوں میں حصہ لیا اور مختلف اداروں کے سسٹمز میں داخل ہو کر ڈیٹا کو مکمل طور پر حذف کر دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ حملہ روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ سائبر وارفیئر کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی جنگ کا اہم میدان بن چکا ہے۔





