لاء کالج میں خونی واقعہ – طالب علم نے لڑکی کو گولی مار کر خودکشی کر لی، CCTV فوٹیج وائرل

لاہور: پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک طالب علم نے کلاس روم میں لڑکی کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ دونوں طلبا جان کی بازی ہار گئے اور پورے کالج میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کی تفصیلات

واقعہ کالج کے اندر کلاس کے دوران پیش آیا۔ طالب علم نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔

اس نے پہلے لڑکی کو گولی ماری اور پھر خود کو گولی مار لی۔ دونوں موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

دیگر طلبا خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ کلاس میں افراتفری پھیل گئی۔

فوری کارروائی

کالج انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ریسکیو اور ہنگامی خدمات کو بلایا گیا۔

لاشوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ کالج کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔

پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔

ویڈیو وائرل

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ لاکھوں لوگوں نے ویڈیو دیکھی۔

ویڈیو میں خوفناک منظر نظر آتا ہے۔ لوگوں نے صدمے کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا۔

متاثرین کی شناخت

پولیس نے دونوں طلبا کی شناخت کر لی۔ دونوں لاء کالج کے طالب علم تھے۔

لواحقین کو اطلاع دے دی گئی۔ خاندان والے صدمے میں ہیں۔

واقعے کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات جاری

پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فائرنگ کی وجوہات معلوم کی جا رہی ہیں۔ کیا ذاتی دشمنی تھی یا کوئی اور معاملہ، یہ جانچا جائے گا۔

گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

کالج انتظامیہ کا ردعمل

یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کی شدید مذمت کی۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

کالج میں سیکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔

طلبا کو کونسلنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

سیکیورٹی کے سوالات

یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ہتھیار کالج میں کیسے آیا؟

ماہرین نے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تعلیمی اداروں میں چیکنگ ضروری قرار دی۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے سیکیورٹی کی کمی پر تنقید کی۔

اختتامیہ

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں پیش آنے والا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ دو نوجوانوں کی زندگیاں ضائع ہو گئیں۔ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں