فیصل آباد: چلڈرن ہسپتال سے اغوا ہونے والی بچی کو پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر بازیاب کر لیا۔ خاتون ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بچی کو والدین کے سپرد کر دیا گیا جبکہ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات
بچی کو ایک دن قبل چلڈرن ہسپتال سے اغوا کیا گیا تھا۔ ایک نامعلوم خاتون بچی کو لے کر فرار ہو گئی۔
والدین نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی شروع کر دی۔
ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی۔
پولیس کی تیز کارروائی
سی پی او فیصل آباد نے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیے سے ملزمہ کی شناخت ہوئی۔ 24 گھنٹوں کے اندر ملزمہ کا سراغ لگا لیا گیا۔
پولیس نے ملزمہ کو بچی کے ساتھ گرفتار کر لیا۔
بچی کی بازیابی
بچی کو محفوظ حالت میں بازیاب کر لیا گیا۔ طبی معائنے کے بعد والدین کے سپرد کیا گیا۔
والدین نے پولیس کی تعریف کی۔ انہوں نے تیز کارروائی کا شکریہ ادا کیا۔
بچی کی صحت ٹھیک بتائی جا رہی ہے۔
ملزمہ کی گرفتاری
گرفتار خاتون کی عمر تقریباً 35 سال بتائی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں اس نے اعتراف کیا۔
ملزمہ نے کہا کہ بچی کو اپنے لیے لے گئی تھی۔ پولیس مزید تفصیلات معلوم کر رہی ہے۔
مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
ہسپتال کی سیکیورٹی
واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے سیکیورٹی بڑھا دی۔ داخلی راستوں پر سخت نگرانی کا اہتمام کیا گیا۔
والدین سے کہا گیا کہ بچوں کو نگرانی میں رکھیں۔ نامعلوم افراد سے ہوشیار رہیں۔
مزید سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
عوامی ردعمل
شہریوں نے پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ سوشل میڈیا پر تعریفی تبصرے آئے۔
لوگوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے احتیاط ضروری ہے۔
والدین کو بچوں کی نگرانی پر زور دیا گیا۔
اختتامیہ
فیصل آباد پولیس کی تیز کارروائی سے بچی 24 گھنٹوں میں بازیاب ہو گئی۔ ملزمہ گرفتار ہو گئی اور بچی محفوظ طریقے سے والدین کو واپس مل گئی۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





