اسلام آباد: حکومت نے سولر پینل صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت بجلی واپس فروخت کرنے کی شرح میں نمایاں کمی کر دی گئی۔ یہ فیصلہ سولر انرجی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مایوس کن ہے۔
نیا نظام کیا ہے
حکومت نے گراس میٹرنگ کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا۔ اس میں سولر سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کی قیمت کم کر دی گئی۔
پہلے نیٹ میٹرنگ میں صارفین کو اچھی قیمت ملتی تھی۔ اب نیا نظام ان کے لیے کم فائدہ مند ہے۔
توانائی محکمہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
شرح میں کمی
پہلے سولر بجلی کی واپسی کی قیمت فی یونٹ 16 سے 20 روپے تھی۔ نئے نظام میں یہ شرح 7 سے 11 روپے کر دی گئی۔
یہ تقریباً 50 فیصد کمی ہے۔ صارفین کو اب کم منافع ملے گا۔
ماہرین نے کہا کہ یہ سولر کی حوصلہ شکنی ہے۔
صارفین پر اثرات
جن لوگوں نے سولر پینل لگائے ہیں وہ متاثر ہوں گے۔ ان کی واپسی کی رقم آدھی سے زیادہ کم ہو جائے گی۔
سولر سسٹم کی قیمت واپس ملنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ نئے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ کم ہو گیا۔
کاروباری حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
حکومت کا موقف
حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ قومی مفاد میں ہے۔ بجلی کی تقسیم کمپنیوں پر بوجھ کم کرنا مقصد ہے۔
توانائی وزارت نے کہا کہ سبسڈی ختم کرنا ضروری تھا۔ نیا نظام منصفانہ ہے۔
آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط کا حوالہ دیا گیا۔
سولر انڈسٹری کا ردعمل
سولر انڈسٹری کے نمائندوں نے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبے کو تباہ کر دے گا۔
کئی کمپنیوں نے کہا کہ نئی تنصیبات رک جائیں گی۔ سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔
تاجر تنظیموں نے حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شدید ناراضگی کا اظہار ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ حکومت سولر کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔
کئی صارفین نے کہا کہ انہوں نے لاکھوں سرمایہ لگایا تھا۔ اب منافع کم ہو گیا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ یہ ماحول دوست توانائی کے خلاف ہے۔
اختتامیہ
نیٹ میٹرنگ کے نئے نظام نے سولر صارفین کو مایوس کر دیا ہے۔ شرح میں نمایاں کمی سے ان کا منافع آدھا سے زیادہ گھٹ گیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں متبادل توانائی کی ترقی پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





