اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ پی ٹی آئی بانی عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک فوری رسائی دی جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ عمران خان کو اپنے بچوں سے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ احکامات چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے جاری کیے۔
عدالتی احکامات
سپریم کورٹ نے جیل حکام کو واضح ہدایات دیں۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ طبی سہولت بنیادی حق ہے۔ کسی بھی قیدی کو علاج سے نہیں روکا جا سکتا۔
جیل حکام کو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر بلانے کی ہدایت کی گئی۔
آنکھوں کی بیماری
عمران خان کی آنکھوں میں مسائل کی شکایت پہلے سے تھی۔ قانونی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ علاج نہیں ہو رہا۔
وکلاء نے کہا کہ جیل انتظامیہ ماہر ڈاکٹر تک رسائی نہیں دے رہی۔ صحت کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
عدالت نے اسے سنجیدگی سے لیا اور فوری حکم دیا۔
بچوں سے رابطے کا معاملہ
سپریم کورٹ نے عمران خان کو بچوں سے رابطے کی سہولت دینے کا بھی حکم دیا۔ قانونی ٹیم نے بتایا کہ بچے باہر ہیں اور رابطہ مشکل ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ انسانی حق ہے۔ قیدی اپنے بچوں سے رابطہ کر سکتا ہے۔
جیل حکام کو مناسب سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
جیل حکام کا موقف
جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ وہ قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولت دستیاب ہے۔
تاہم عدالت نے ماہر ڈاکٹر کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ عام جیل ڈاکٹر کافی نہیں۔
حکام کو عدالتی حکم پر فوری عمل کرنا ہوگا۔
قانونی ٹیم کا ردعمل
عمران خان کی قانونی ٹیم نے عدالتی فیصلے کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انصاف کی جانب قدم ہے۔
وکلاء نے کہا کہ عمران خان کی صحت تشویشناک ہے۔ فوری علاج ضروری ہے۔
ٹیم نے عدالت کا شکریہ ادا کیا۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف نے عدالتی حکم کو مثبت قرار دیا۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ بانی کی صحت پارٹی کی اولین فکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حق ہے۔ اسے کسی صورت نہیں روکا جا سکتا۔
اختتامیہ
سپریم کورٹ کے احکامات عمران خان کی صحت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر قیدی کو طبی سہولت اور خاندان سے رابطے کا حق حاصل ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





