اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے انتہا پسندی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پیغامات جاری کیے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں کسی مذہب، ثقافت یا قوم کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔
صدر مملکت کا پیغام
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کسی ایک قوم یا مذہب کو اس لعنت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہا پسندی کے خلاف بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ہم اس جنگ میں سب سے آگے ہیں۔
صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ انسداد دہشت گردی کی کوششیں منصفانہ ہونی چاہئیں۔
وزیراعظم کا پیغام
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انتہا پسندی عالمی مسئلہ ہے۔ اس کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہم میں مذہبی یا ثقافتی تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تعصب مزید نفرت پیدا کرتا ہے۔
وزیراعظم نے امن اور رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کی قربانیاں
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی اور عام شہری شہید ہوئے۔
معاشی نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ انتہا پسندی کو مسترد کیا ہے۔
پاکستانی افواج نے کئی کامیاب آپریشن کیے۔
اسلاموفوبیا کا خطرہ
دونوں رہنماؤں نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنا غلط ہے۔
اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے۔ چند افراد کی حرکات سے پورے مذہب کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی برادری کو اس رجحان کو روکنا ہوگا۔
عالمی تعاون کی ضرورت
وزیراعظم نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں عالمی تعاون ضروری ہے۔ کوئی بھی ملک اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مؤثر کردار کا مطالبہ کیا۔
مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کا کردار
دونوں رہنماؤں نے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تعلیم اور شعور اجاگر کرنا اہم ہے۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو صحیح رہنمائی دینی ہوگی۔
اختتامیہ
صدر اور وزیراعظم کا پیغام واضح ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ منصفانہ اور متوازن ہونی چاہیے۔ کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام کیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





