عمران خان کی جیل میں تشویشناک صورتحال، فرینڈ آف کورٹ کا عدالت میں اہم انکشاف

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فرینڈ آف کورٹ نے پی ٹی آئی بانی عمران خان کی ادیالہ جیل میں صورتحال کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ چیف جسٹس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں۔

فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ

فرینڈ آف کورٹ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال تشویشناک ہے۔ آنکھوں کی بیماری کا علاج نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ مناسب خوراک اور طبی دیکھ بھال میں کمی ہے۔

فرینڈ آف کورٹ نے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

صحت کے مسائل

فرینڈ آف کورٹ نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھوں میں تکلیف بڑھ رہی ہے۔ ماہر ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی گئی۔

ان کا وزن کم ہوا ہے۔ نیند اور خوراک متاثر ہے۔

طبی سہولیات کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیر کا الزام ہے۔

سہولیات کا فقدان

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو خاندان اور بچوں سے ملاقات کی اجازت محدود ہے۔ قانونی ٹیم سے ملاقات میں بھی رکاوٹیں ہیں۔

جیل سیل میں روشنی اور ہوا کا مسئلہ ہے۔ مطالعے کی سہولت محدود ہے۔

کتابیں اور اخبارات بھی بروقت نہیں ملتے۔

عدالت کا ردعمل

چیف جسٹس نے فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا۔ جیل حکام سے جواب طلب کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ ہر قیدی کو بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔ یہ آئینی ذمہ داری ہے۔

حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔

جیل حکام کا موقف

جیل حکام نے کہا کہ قانون کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔ کسی بھی حق سے محروم نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ طبی سہولت دستیاب ہے۔ ملاقات کی اجازت قواعد کے مطابق ہے۔

تاہم فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔

قانونی ٹیم کا بیان

عمران خان کے وکلاء نے فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔

وکلاء نے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ موکل کی صحت خطرے میں ہے۔

قانونی ٹیم نے مزید اقدامات کا عزم کیا۔

پی ٹی آئی کا ردعمل

پاکستان تحریک انصاف نے فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ کو درست قرار دیا۔ پارٹی نے حکومت پر بانی کو جان بوجھ کر تکلیف دینے کا الزام لگایا۔

پارٹی ترجمان نے کہا کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔ عالمی برادری سے توجہ کا مطالبہ کیا۔

اختتامیہ

فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ نے عمران خان کی جیل میں صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ قانون کے مطابق ہر قیدی کو بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں