اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی بانی عمران خان کی آنکھوں کا علاج نہ ملنے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جیل میں مناسب طبی سہولت نہ ملنے سے عمران خان کی بینائی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے حکومت کو فوری اقدامات کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔
صورتحال کی سنگینی
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھوں کی بیماری بڑھ رہی ہے۔ ماہر ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
وکلاء نے کہا کہ علاج میں تاخیر سے مستقل نقصان کا خطرہ ہے۔ بینائی جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود علاج نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی کا احتجاج
پارٹی رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں احتجاج کا اعلان کیا۔ ملک بھر میں مظاہرے ہوں گے۔
اہم شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔
پارٹی ورکرز کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے بیانات
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ ریاستی ظلم ہے۔ بانی کو جان بوجھ کر تکلیف دی جا رہی ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ علاج نہ دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ حکومت جوابدہ ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ عوام سڑکوں پر نکلیں گے۔
حکومتی موقف
حکومتی ترجمان نے کہا کہ جیل میں طبی سہولت دستیاب ہے۔ علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی ہمدردی کے لیے بیانیہ بنا رہی ہے۔
جیل حکام نے بھی معمول کے مطابق سہولیات کا دعویٰ کیا۔
سپریم کورٹ کے احکامات
سپریم کورٹ نے پہلے ہی ماہر ڈاکٹر تک رسائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات پر عمل درآمد سوالیہ نشان ہے۔
قانونی ٹیم نے کہا کہ عدالتی احکامات نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ توہین عدالت کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔
عدالت کو دوبارہ آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کی رائے
آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے کہا کہ بروقت علاج نہ ملنے سے بینائی مستقل متاثر ہو سکتی ہے۔ تاخیر خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر قیدی کو طبی سہولت کا بنیادی حق ہے۔ اسے روکنا قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید ردعمل آیا۔ لاکھوں لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
حامیوں نے احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اختتامیہ
عمران خان کی بینائی کو لاحق خطرے پر پی ٹی آئی کا احتجاج جائز مطالبہ ہے۔ ہر قیدی کو بنیادی طبی سہولت کا حق حاصل ہے۔ حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





