اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں متعارف کرائی گئی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ دستاویزی ثبوت سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں زیر بحث آ گیا ہے۔ حکومتی حلقے اس انکشاف کو اہمیت دے رہے ہیں۔
ایمنسٹی اسکیم کیا تھی
مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور میں ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی۔ اس کا مقصد چھپائی گئی جائیدادوں اور اثاثوں کو ظاہر کرنا تھا۔
اسکیم میں شامل ہونے والوں کو قانونی تحفظ دیا گیا تھا۔ جرمانے میں رعایت بھی دی گئی تھی۔
ہزاروں افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔
علیمہ خان کا معاملہ
دستاویزات کے مطابق علیمہ خان نے اس اسکیم میں اپنے اثاثے ظاہر کیے۔ انہوں نے قانونی تحفظ حاصل کیا۔
اثاثوں کی تفصیلات دستاویزات میں موجود ہیں۔ یہ معاملہ پہلی بار اتنی تفصیل سے سامنے آیا ہے۔
علیمہ خان نے ابھی تک اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔
سیاسی اہمیت
یہ انکشاف سیاسی لحاظ سے اہم ہے۔ پی ٹی آئی مسلسل مسلم لیگ ن کی ایمنسٹی اسکیم پر تنقید کرتی رہی ہے۔
اب ان کی اپنی قیادت کے خاندان کا اسکیم سے فائدہ اٹھانا سوالات پیدا کرتا ہے۔
سیاسی مخالفین نے اسے دوہرا معیار قرار دیا ہے۔
حکومتی ردعمل
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے انکشاف کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کے دوہرے معیار کی مثال ہے۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ایک طرف اسکیم پر تنقید اور دوسری طرف فائدہ اٹھانا ناقابل قبول ہے۔
وزارت خزانہ نے دستاویزات کی تصدیق کی ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف
پاکستان تحریک انصاف نے معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری موقف نہیں دیا۔ پارٹی ترجمان خاموش ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایمنسٹی اسکیم میں شمولیت قانونی تھی۔ کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
پارٹی کے ردعمل کا انتظار ہے۔
قانونی پہلو
ماہرین نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانا قانوناً جرم نہیں۔ اسکیم ہی اس لیے بنائی گئی تھی۔
تاہم سیاسی اعتبار سے یہ معاملہ اہم ہے۔ پی ٹی آئی کے تنقیدی موقف سے تضاد ظاہر ہوتا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ نے اسے دوہرا معیار کہا۔
دوسروں نے کہا کہ قانونی اسکیم سے فائدہ اٹھانا کوئی غلط نہیں۔ تنقید بے جا ہے۔
اختتامیہ
علیمہ خان کا مسلم لیگ دور کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانا سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ قانونی طور پر درست ہونے کے باوجود یہ معاملہ سیاسی سوالات اٹھاتا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





