واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو انتہائی سخت الٹی میٹم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران یا تو جوہری معاہدے پر راضی ہو یا پھر دردناک انجام کے لیے تیار ہو جائے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ کا پیغام
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اور میڈیا بریفنگ میں ایران کو براہ راست پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔ امریکہ اسے کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے فوجی آپشن سے انکار نہیں کیا۔
ایران کا ردعمل
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دھمکیاں کام نہیں آئیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق نہیں چھوڑے گا۔ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوں گے۔
ایران نے امریکی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔
جوہری مسئلے کی تاریخ
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دور میں اس سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
اب دوبارہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ نئے معاہدے کے خواہاں ہیں۔ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری ہے۔
علاقائی اثرات
ٹرمپ کے بیان سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل نے امریکی موقف کی حمایت کی۔
عرب ممالک نے محتاط ردعمل دیا۔ روس اور چین نے مذاکرات کی اپیل کی۔
خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
فوجی آپشن
امریکی وزارت دفاع نے کہا کہ تمام آپشنز میز پر ہیں۔ فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا گیا۔
اسرائیل نے بھی ایران پر حملے کی تیاری کا اشارہ دیا ہے۔ امریکی فوجی خطے میں موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں نے جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
مذاکرات کا امکان
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان مذاکراتی حکمت عملی ہے۔ وہ زیادہ دباؤ سے بہتر ڈیل چاہتے ہیں۔
یورپی ممالک نے دونوں فریقین سے مذاکرات کی اپیل کی۔ سفارتی حل ممکن ہے۔
اقوام متحدہ نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
پاکستان پر اثرات
پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے۔ کسی بھی فوجی کارروائی کے علاقائی اثرات ہوں گے۔
پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ کشیدگی میں کمی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
توانائی اور تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اختتامیہ
ٹرمپ کا ایران کو سخت الٹی میٹم مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔ ڈیل یا تصادم کے درمیان فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔ عالمی برادری مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





