واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر اضحاق ہرزوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو کرپشن کیس میں فوری معافی دی جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمات سیاسی ہیں اور اسرائیل کے مفاد میں انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ بیان امریکی اور اسرائیلی تعلقات میں ٹرمپ کی براہ راست مداخلت کی نئی مثال ہے۔
ٹرمپ کا براہ راست مطالبہ
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو بے گناہ ہیں۔ ان پر لگائے گئے الزامات سیاسی بدلے کی کارروائی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی صدر کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے معافی دینی چاہیے۔ یہ اسرائیل کی سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو اپنا قریبی دوست قرار دیا۔
نیتن یاہو کے خلاف الزامات
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر کرپشن، رشوت اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ یہ مقدمات کئی سال سے عدالت میں چل رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے۔
اسرائیلی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جاری ہے۔
اسرائیلی صدر کا اختیار
اسرائیلی آئین کے تحت صدر کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم یہ اختیار محدود اور غیر معمولی حالات میں استعمال ہوتا ہے۔
صدر اضحاق ہرزوگ نے ابھی تک ٹرمپ کے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس معاملے کو نمایاں طور پر کور کیا۔
قانونی ماہرین نے کہا کہ سیاسی دباؤ میں معافی متنازع ہوگی۔
اسرائیلی عوام کا ردعمل
اسرائیل میں عوامی رائے منقسم ہے۔ نیتن یاہو کے حامی ٹرمپ کے مطالبے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
مخالفین نے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالا نہیں ہونا چاہیے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے ٹرمپ کی مداخلت کو مسترد کر دیا۔
امریکہ اسرائیل تعلقات
ٹرمپ نیتن یاہو کے مضبوط حامی رہے ہیں۔ اپنی پہلی مدت میں انہوں نے اسرائیل کے حق میں کئی فیصلے کیے۔
امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا ان کا اہم اقدام تھا۔ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کی۔
دونوں رہنما ذاتی طور پر بھی قریبی دوست ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
یورپی یونین نے احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔
عرب ممالک نے ٹرمپ کے مطالبے پر تنقید کی۔ انہوں نے اسے دوہرے معیار قرار دیا۔
اقوام متحدہ نے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ
ماہرین نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ مطالبہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ ایک ملک کے صدر کا دوسرے ملک کے اندرونی قانونی معاملے میں براہ راست مداخلت نایاب ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی اسرائیل اتحاد کی نئی شکل ہے۔ ٹرمپ کھلے عام اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔
آئندہ امکانات
اسرائیلی صدر کے فیصلے کا انتظار ہے۔ سیاسی دباؤ اور قانونی پابندیاں دونوں موجود ہیں۔
اگر معافی دی جاتی ہے تو اسرائیل میں سیاسی بحران بڑھ سکتا ہے۔ اگر نہیں دی جاتی تو امریکہ اسرائیل تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کا مقدمہ عدالت میں جاری رہے گا۔
اختتامیہ
صدر ٹرمپ کا نیتن یاہو کو کرپشن کیس میں معافی دلانے کا مطالبہ بین الاقوامی سیاست میں اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاملہ قانون کی حکمرانی اور سیاسی دوستی کے درمیان کشمکش کو اجاگر کرتا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





