سان فرانسسکو: سوشل میڈیا کمپنی میٹا اپنے مشہور اسمارٹ گلاسز میں چہرہ پہچاننے اور لوکیشن ٹریکنگ کی متنازع ٹیکنالوجی شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ انکشاف میڈیا رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔ پرائیویسی کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متنازع ٹیکنالوجی کیا ہے
میٹا اپنے ریبان اسمارٹ گلاسز میں فیشل ریکگنیشن فیچر شامل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سامنے آنے والے کسی بھی شخص کا چہرہ پہچان سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ریئل ٹائم لوکیشن ٹریکنگ بھی شامل کی جا سکتی ہے۔ پہننے والے کی ہر نقل و حرکت ریکارڈ ہوگی۔
ڈیٹا میٹا کے سرورز پر محفوظ ہوگا۔
پرائیویسی کو خطرہ
پرائیویسی ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ کوئی بھی شخص بغیر اجازت کسی کی شناخت کر سکتا ہے۔
عوامی مقامات پر لوگوں کی نگرانی ممکن ہو جائے گی۔ نجی زندگی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ یہ جارج اورویل کے ناول 1984 کی یاد دلاتا ہے۔
کالج طلبہ کا تجربہ
حال ہی میں امریکی کالج طلبہ نے ثابت کیا کہ میٹا گلاسز سے چند سیکنڈ میں کسی بھی انجان شخص کی مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے لوگوں کا نام، پتہ اور سوشل میڈیا پروفائل ڈھونڈ لیا۔ یہ تجربہ انتہائی چونکا دینے والا تھا۔
اس تجربے نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی۔
قانونی پہلو
یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اس ٹیکنالوجی کو روک سکتے ہیں۔ جی ڈی پی آر کے تحت بغیر اجازت ڈیٹا اکٹھا کرنا غیر قانونی ہے۔
امریکا میں بھی قانون سازی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ کانگریس میں بل پیش کیا جا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
میٹا کا موقف
میٹا نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ صرف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کمپنی نے کہا کہ پرائیویسی کو مدنظر رکھا جائے گا۔ صارفین کی رضامندی لازمی ہوگی۔
تاہم ماہرین کو میٹا کے دعووں پر اعتبار نہیں۔
ٹیک انڈسٹری کا ردعمل
دیگر ٹیک کمپنیوں نے میٹا کے منصوبے پر تشویش ظاہر کی۔ کچھ نے مقابلے میں ایسی ٹیکنالوجی سے گریز کا اعلان کیا۔
گوگل اور ایپل نے پرائیویسی کو ترجیح دینے کا کہا۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا۔ لوگوں نے میٹا کے خلاف مہم شروع کی۔
کئی ممالک میں صارفین نے اسمارٹ گلاسز بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
پرائیویسی کے حق کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
اختتامیہ
میٹا کا اسمارٹ گلاسز میں متنازع ٹیکنالوجی شامل کرنے کا منصوبہ پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی متعارف ہوئی تو انسانی نجی زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





