جنیوا: ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر فیصلہ کن مذاکرات جنیوا میں شروع ہو گئے ہیں۔ کئی ماہ کی کشیدگی اور الٹی میٹمز کے بعد دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آ گئے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں ان تاریخی مذاکرات پر جمی ہیں کہ آیا جنگ کا خطرہ ٹلے گا یا بڑھے گا۔
مذاکرات کا آغاز
جنیوا کے ایک اہم مقام پر دونوں ممالک کے وفود ملے۔ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار آمنے سامنے بیٹھے۔
یورپی یونین نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
ماحول سنجیدہ اور کشیدہ بتایا جا رہا ہے۔
مذاکرات کے اہم نکات
ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا مرکزی موضوع ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی روکے۔
ایران چاہتا ہے کہ پابندیاں ہٹائی جائیں۔ معیشت پر دباؤ کم کیا جائے۔
دونوں فریقین کے مطالبات مختلف ہیں۔
امریکی وفد کا موقف
امریکی وفد نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ناقابل مصالحت موقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کی صورت میں پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں۔ ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
امریکی ٹیم کا لہجہ سخت لیکن مذاکراتی ہے۔
ایرانی وفد کا موقف
ایرانی وفد نے کہا کہ جوہری پروگرام ملک کا حق ہے۔ پرامن مقاصد کے لیے جاری رہے گا۔
انہوں نے پہلے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔
ایران نے کہا کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔
ممکنہ نتائج
ماہرین نے کہا کہ تین نتائج ممکن ہیں۔ پہلا معاہدہ ہو جائے اور کشیدگی کم ہو۔
دوسرا مذاکرات ناکام ہوں اور جنگ کا خطرہ بڑھے۔ تیسرا عارضی معاہدہ ہو اور مزید مذاکرات ہوں۔
سب سے امید افزا نتیجہ عارضی معاہدہ ہے۔
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیل نے مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ ایران کو جوہری صلاحیت سے مکمل طور پر روکے۔
اسرائیل فوجی آپشن ترک کرنے کو تیار نہیں۔
روس اور چین کا کردار
روس اور چین نے مذاکرات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی حل ہی واحد راستہ ہے۔
دونوں ممالک ایران کے قریبی اتحادی ہیں۔ انہوں نے ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔
اقوام متحدہ نے بھی مذاکرات کو خوش آمدید کہا۔
پاکستان کی توقعات
پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی ہے۔ ایران ہمسایہ ملک ہے۔
جنگ کی صورت میں پاکستان متاثر ہوگا۔ کامیاب مذاکرات سے خطے میں امن ہوگا۔
وزارت خارجہ نے مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔
اختتامیہ
جنیوا میں ایران امریکا جوہری مذاکرات ایک تاریخی موقع ہے۔ کامیابی کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ کم ہوگا۔ دنیا امید رکھتی ہے کہ سفارت کاری جیتے گی اور جنگ ہارے گی۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





