اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 295 ارب روپے کے خسارے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ این ایچ اے کے ترجمان نے کہا کہ یہ خبریں بے بنیاد اور حقائق سے مختلف ہیں۔ ادارے نے اصل مالی صورتحال عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔
این ایچ اے کی وضاحت
این ایچ اے کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 295 ارب روپے خسارے کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کی مالیاتی صورتحال میڈیا میں پیش کی گئی تصویر سے مختلف ہے۔ اصل اعداد و شمار بہتر ہیں۔
ادارے نے تفصیلی بیان جاری کیا۔
اصل صورتحال کیا ہے
این ایچ اے نے بتایا کہ ان کا کام قرضوں پر منحصر ہے۔ بڑے منصوبے قرضوں سے بنتے ہیں جو بعد میں ٹول وصولی سے ادا ہوتے ہیں۔
یہ خسارہ نہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ دنیا بھر میں ہائی ویز اسی طرح بنتی ہیں۔
ادارے کے اثاثے واجبات سے کہیں زیادہ ہیں۔
منصوبوں کی تفصیلات
این ایچ اے کے تحت ملک بھر میں ہزاروں کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر یا مکمل ہو چکی ہیں۔ ان منصوبوں کی مالیت کھربوں روپے ہے۔
موٹر ویز اور ہائی ویز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ یہ ادارے کے فعال ہونے کی دلیل ہے۔
ٹول وصولی سے آمدن مسلسل بڑھ رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس پر تنقید
این ایچ اے نے کہا کہ کچھ میڈیا ہاؤسز نے ادھوری معلومات پر مبنی خبریں چلائیں۔ مکمل تصویر پیش نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی مالیاتی اصطلاحات کو سمجھے بغیر غلط تشریح کی گئی۔ یہ درست صحافت نہیں۔
این ایچ اے نے میڈیا سے درخواست کی کہ تصدیق کے بعد خبر چلائیں۔
حکومتی موقف
وزارت مواصلات نے این ایچ اے کی وضاحت کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ قانون کے مطابق کام کر رہا ہے۔
وزیر مواصلات نے کہا کہ قومی ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش ناکام رہے گی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا حوالہ غلط انداز میں استعمال کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کا معاملہ
ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کچھ مالیاتی نکات اٹھائے گئے تھے۔ این ایچ اے نے ان کا جواب دیا ہے۔
آڈٹ کا عمل معمول کا حصہ ہے۔ ہر سرکاری ادارے کا آڈٹ ہوتا ہے۔
رپورٹ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
عوامی ردعمل
شہریوں نے اصل حقیقت جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ شفاف معلومات سامنے آئیں۔
کچھ نے این ایچ اے کی وضاحت کو قابل قبول سمجھا۔ دوسروں نے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا۔
آزاد آڈٹ کی اپیل بھی کی گئی۔
اختتامیہ
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 295 ارب خسارے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مالیاتی اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ شفافیت کے لیے حکومت کو آزاد آڈٹ یقینی بنانا چاہیے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





