اسرائیل کا نیا ظلم: مغربی کنارے کی فلسطینی زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دے دیا

تل ابیب: اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کی نئی کوشش ہے۔ عالمی برادری نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

فیصلے کی تفصیلات

اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے میں ہزاروں ایکڑ فلسطینی زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا زمین قبضہ ہے۔

اس فیصلے سے فلسطینیوں کی نسلوں سے آباد زمینیں چھن جائیں گی۔ یہودی آباد کاروں کو یہ زمینیں دی جائیں گی۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس فیصلے کی قیادت کی۔

فلسطینیوں کا ردعمل

فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کو سخت الفاظ میں مسترد کیا۔ صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ ہماری زمین چوری ہے۔

فلسطینی رہنماؤں نے کہا کہ یہ دو ریاستی حل کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اسرائیل امن کو تباہ کر رہا ہے۔

غزہ میں حماس نے اس فیصلے کو جنگ کا اعلان قرار دیا۔

عالمی مذمت

اقوام متحدہ نے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یورپی یونین نے کہا کہ یہ فیصلہ قابل قبول نہیں۔ فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔

عرب ممالک نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

امریکی موقف

امریکا نے اسرائیلی فیصلے پر ہلکی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مددگار نہیں۔

تاہم امریکا نے اسرائیل پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ عملی اقدامات سے گریز کیا گیا۔

اسرائیل کو یقین ہے کہ امریکا کوئی سخت قدم نہیں اٹھائے گا۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی

ماہرین قانون نے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ چوتھا جنیوا کنونشن قابض طاقت کو ایسا کرنے سے روکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی ویٹو رکاوٹ بن سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا۔

مسلم دنیا کا ردعمل

اسلامی تعاون تنظیم نے ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا۔ مسلمان ممالک نے مشترکہ موقف اپنانے کا فیصلہ کیا۔

ترکی، اردن اور مصر نے سفارتی احتجاج کیا۔ سفیروں کو طلب کیا گیا۔

پاکستان نے بھی فیصلے کی شدید مذمت کی۔

پاکستان کا موقف

پاکستان نے اسرائیلی فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا۔

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو روکا جائے۔ فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

پاکستان ہمیشہ فلسطین کا ساتھ دیتا رہے گا۔

دو ریاستی حل

ماہرین نے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ دو ریاستی حل کو ناممکن بنا رہا ہے۔ فلسطینی ریاست کے لیے زمین ختم ہو رہی ہے۔

امن کے لیے ضروری ہے کہ دو ریاستی حل پر عمل ہو۔ اسرائیلی آباد کاری اس کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اختتامیہ

اسرائیل کا مغربی کنارے کی فلسطینی زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دینا ایک ظالمانہ اقدام ہے۔ عالمی برادری کو فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں