اسلام آباد: پاکستان کی عدلیہ نے سزائے موت اور عمر قید کے التوا زدہ مقدمات کو 45 روز میں نمٹانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تمام ہائیکورٹس اور ماتحت عدالتوں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے کا اہم قدم ہے۔
فیصلے کی تفصیلات
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سزائے موت اور عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کے اپیل کیسز فوری بنیادوں پر سنے جائیں۔ 45 روز کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
تمام ہائیکورٹس اور سیشن کورٹس کو سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ التوا ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا۔
خصوصی بنچز تشکیل دیے جائیں گے۔
التوا کا مسئلہ
پاکستان میں ہزاروں قیدی سزائے موت اور عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے اپیل کیسز سالوں سے التوا کا شکار ہیں۔
کچھ قیدیوں کو فیصلے کا انتظار 10 سال سے زیادہ ہے۔ یہ انصاف کی فراہمی میں سنگین رکاوٹ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے آواز اٹھا رہی تھیں۔
چیف جسٹس کا موقف
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ قیدیوں کو جلد انصاف ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قیدی اور ان کے لواحقین دونوں عذاب میں مبتلا ہیں۔ فوری فیصلہ ان کا حق ہے۔
عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ نظام کو بہتر بنائے۔
عمل درآمد کا طریقہ
ہائیکورٹس میں خصوصی بنچز بنائے جائیں گے۔ صرف یہ کیسز سنے جائیں گے۔
روزانہ سماعت ہوگی۔ چھٹیوں میں بھی کام جاری رہے گا۔
45 روز کی ڈیڈ لائن کو سختی سے لاگو کیا جائے گا۔
وکلاء کی ذمہ داری
وکلاء سے کہا گیا ہے کہ وہ بلاوجہ التوا نہ کریں۔ تعاون کریں تاکہ جلد فیصلے ہوں۔
بار ایسوسی ایشنز نے حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثبت قدم ہے۔
پراسیکیوشن کو بھی تیار رہنے کا حکم ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری تھا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ سزائے موت کے خاتمے پر بھی غور ہونا چاہیے۔ یہ انسانی حقوق کا بنیادی مسئلہ ہے۔
عمل درآمد کی نگرانی ضروری ہے۔
قیدیوں کے لواحقین
سزا یافتہ قیدیوں کے لواحقین نے امید کا اظہار کیا۔ برسوں کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔
خاندانوں نے کہا کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو وہ قبول ہے۔ لیکن التوا نے زندگیاں تباہ کر دیں۔
انصاف ملنا ضروری ہے چاہے کسی سمت میں ہو۔
عوامی ردعمل
عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو سراہا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ انصاف کے نظام میں بہتری کا قدم ہے۔
سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل آیا۔ لوگوں نے چیف جسٹس کی تعریف کی۔
اختتامیہ
سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے کا اہم قدم ہے۔ عدلیہ کی یہ کوشش قابل تعریف ہے۔ عمل درآمد کامیاب ہو تو ہزاروں قیدیوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف ملے گا۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





