نیویارک: بِٹ کوائن کی دنیا میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کچھ خفیہ ای میلز سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی ملی ارب پتی جیفری ایپسٹین بِٹ کوائن کا گمنام بانی "ستوشی ناکاموٹو” ہو سکتا ہے۔ یہ دعویٰ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تہلکہ مچا رہا ہے۔
جیفری ایپسٹین کون تھا
جیفری ایپسٹین ایک امریکی ملی ارب پتی تھا۔ وہ سنگین مجرمانہ الزامات میں ملوث تھا۔
2019 میں جیل میں مشکوک حالات میں اس کی موت ہوئی۔ اس کے تعلقات بہت سے طاقتور لوگوں سے تھے۔
وہ ٹیکنالوجی اور فنانس میں دلچسپی رکھتا تھا۔
بِٹ کوائن کا گمنام بانی
بِٹ کوائن 2009 میں "ستوشی ناکاموٹو” نامی گمنام شخص نے متعارف کرایا۔ یہ نام حقیقی ہے یا جعلی کوئی نہیں جانتا۔
ستوشی کی اصل شناخت آج تک راز ہے۔ یہ کرپٹو کرنسی کا سب سے بڑا معمہ ہے۔
کئی لوگ دعویٰ کر چکے ہیں لیکن کوئی ثابت نہیں ہو سکا۔
خفیہ ای میلز کیا کہتی ہیں
حال ہی میں کچھ خفیہ ای میلز سامنے آئی ہیں۔ ان میں ایپسٹین اور کرپٹوگرافی ماہرین کے درمیان بات چیت ہے۔
ای میلز میں بِٹ کوائن کے ابتدائی کوڈ اور تصورات کا ذکر ہے۔ تاریخیں بِٹ کوائن کے آغاز سے ملتی ہیں۔
کچھ ماہرین نے ای میلز کو اہم قرار دیا۔
ماہرین کی رائے
کرپٹو کرنسی کے ماہرین میں اختلاف ہے۔ کچھ نے دعوے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایپسٹین کی تکنیکی صلاحیت اتنی نہیں تھی۔ بِٹ کوائن بنانے کے لیے گہری مہارت چاہیے۔
دوسروں نے کہا کہ مزید تحقیق ضروری ہے۔
شواہد کی کمی
ابھی تک کوئی مضبوط ثبوت نہیں۔ صرف ای میلز کافی نہیں۔
ستوشی کی شناخت ثابت کرنے کے لیے cryptographic keys کی ضرورت ہے۔ وہ موجود نہیں۔
یہ دعویٰ قیاس آرائی پر مبنی ہے۔
کرپٹو کمیونٹی کا ردعمل
بِٹ کوائن کمیونٹی نے مخلوط ردعمل دیا۔ کچھ نے دلچسپی دکھائی۔
دوسروں نے کہا کہ یہ ایک اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔ ستوشی کی شناخت کے لیے کئی جھوٹے دعوے ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بحث گرم ہے۔
حقیقت کیا ہے
حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کوئی نہیں جانتا ستوشی کون ہے۔ یہ معمہ برقرار ہے۔
جیفری ایپسٹین کو ستوشی قرار دینا قبل از وقت ہے۔ مضبوط شواہد کی ضرورت ہے۔
شاید یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے۔
اختتامیہ
جیفری ایپسٹین کو بِٹ کوائن کا بانی قرار دینا ایک بڑا دعویٰ ہے جو ابھی ثابت نہیں ہوا۔ خفیہ ای میلز نے تنازع ضرور کھڑا کیا ہے لیکن حتمی ثبوت موجود نہیں۔ ستوشی ناکاموٹو کی شناخت شاید دنیا کا سب سے بڑا راز بنی رہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





