واشنگٹن: ناسا اور عالمی خلائی تحقیقاتی اداروں نے ایک خطرناک انتباہ جاری کیا ہے۔ خلا میں موجود کچھ بڑے سیارچے زمین کے قریب سے گزر رہے ہیں جو کسی شہر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سائنسدان ان سیارچوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سیارچے کتنے بڑے ہیں
یہ سیارچے 100 میٹر سے لے کر 500 میٹر تک بڑے ہیں۔ کچھ تو فٹ بال کے میدان سے بھی بڑے ہیں۔
ان کی رفتار ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ٹکر کی صورت میں تباہی ناقابل تصور ہوگی۔
ایک سیارچہ ایک پورے شہر کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔
ناسا کا انتباہ
ناسا کے Planetary Defense Office نے کہا کہ کئی سیارچے زمین کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ ان پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیارچوں کے راستے کا حساب لگایا جا رہا ہے۔ زیادہ تر محفوظ فاصلے پر رہیں گے۔
تاہم خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
کب گزریں گے
مختلف سیارچے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں زمین کے قریب سے گزریں گے۔ کچھ تو بہت قریب سے۔
ناسا نے تاریخوں اور فاصلوں کی فہرست جاری کی ہے۔ عوام کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
زیادہ تر سیارچے چاند سے بھی دور سے گزریں گے۔
ٹکر کا خطرہ کتنا
سائنسدانوں کے مطابق فوری ٹکر کا خطرہ بہت کم ہے۔ تاہم صفر نہیں۔
چھوٹی سی تبدیلی بھی سیارچے کو زمین کی طرف موڑ سکتی ہے۔ اسی لیے مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
ایک فیصد سے بھی کم امکان ہے لیکن خطرہ موجود ہے۔
ماضی کے واقعات
2013 میں روس میں ایک سیارچہ گرا تھا۔ چھوٹا تھا لیکن 1500 لوگ زخمی ہوئے۔
ڈائنوسارز کا خاتمہ بھی ایک بڑے سیارچے کی ٹکر سے ہوا تھا۔ 6 کروڑ سال پہلے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خطرہ حقیقی ہے۔
دفاعی منصوبے
ناسا اور دیگر ادارے Planetary Defense پر کام کر رہے ہیں۔ سیارچوں کو راستے سے ہٹانے کی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے۔
DART مشن میں ایک سیارچے کو کامیابی سے ہٹایا گیا۔ یہ بڑی کامیابی تھی۔
مستقبل میں خطرناک سیارچوں کو تباہ کیا جا سکے گا۔
عوام کو کیا کرنا چاہیے
عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ سائنسدان پوری طرح چوکس ہیں۔
ناسا کی ویب سائٹ سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ جھوٹی خبروں پر یقین نہ کریں۔
سائنس پر بھروسہ کریں۔
پاکستانیوں کے لیے
پاکستان میں خلائی سائنس کا شعبہ بڑھ رہا ہے۔ SUPARCO بھی عالمی اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
پاکستانی سائنسدانوں کو بھی اس میں حصہ لینا چاہیے۔
اختتامیہ
خلا میں موجود شہر تباہ کرنے والے سیارچوں کا خطرہ حقیقی ہے لیکن فوری نہیں۔ سائنسدان مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور دفاعی منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ گھبرانے کی بجائے سائنس پر اعتماد رکھیں۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





