لاہور: لاہور پولیس نے ایک انتہائی شرمناک کیس میں ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے ایک گھریلو ملازمہ کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی کی اور پھر نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو قابو میں لے لیا اور مقدمہ درج کر دیا ہے۔
واقعے کی تفصیل
ملزم نے متاثرہ خاتون کو جھوٹے وعدوں پر ہوٹل میں بلایا۔ وہاں اس کے ساتھ زیادتی کی۔
ملزم نے نازیبا ویڈیوز بھی بنائیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔ متاثرہ کو بلیک میل کیا۔
یہ واقعہ چند دن پہلے پیش آیا تھا۔
متاثرہ کی شکایت
متاثرہ خاتون نے ہمت کر کے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس نے پورا واقعہ بیان کیا۔
اس نے ملزم کی شناخت بھی کرائی۔ شواہد فراہم کیے۔
پولیس نے فوری کارروائی شروع کر دی۔
پولیس کی کارروائی
لاہور پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔ چند گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ملزم کے موبائل فون اور دیگر شواہد قبضے میں لے لیے گئے۔ فارنزک تجزیہ کے لیے بھیجے گئے۔
مقدمہ متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
مقدمے کی دفعات
ملزم کے خلاف زیادتی، بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔
Prevention of Electronic Crimes Act کے تحت بھی کارروائی کی گئی۔
ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے سے متاثرہ کو شدید ذہنی اذیت ہوئی۔ یہ سائبر کرائم کی سنگین مثال ہے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بھی تحقیقات میں شامل ہے۔ ویڈیوز کو ہٹایا جا رہا ہے۔
گھریلو ملازمین کا استحصال
یہ واقعہ گھریلو ملازمین خاص طور پر خواتین کے استحصال کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ بہت کمزور طبقہ ہے۔
ماہرین نے کہا کہ گھریلو ملازمین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ قانون سازی بھی ہونی چاہیے۔
عوامی شعور بڑھانا ضروری ہے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے پولیس کی کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے متاثرہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے۔
اختتامیہ
لاہور میں گھریلو ملازمہ کے ساتھ زیادتی اور ویڈیوز وائرل کرنے والے ملزم کی گرفتاری قابل تعریف ہے۔ ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ خواتین خاص طور پر کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





