مسجد اقصیٰ کے امام گرفتار، اسرائیلی فوج کی کارروائی

بیت المقدس: اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے امام کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری مسجد اقصیٰ کے احاطے سے کی گئی۔ حماس سمیت تمام فلسطینی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری سے بھی فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔

گرفتاری کی تفصیلات

اسرائیلی فورسز نے رات گئے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر چھاپہ مارا۔ امام کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

گرفتاری کے وقت کسی الزام کی وضاحت نہیں کی گئی۔ خاندان والوں کو بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

امام کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

مسجد اقصیٰ کے امام کون ہیں

گرفتار کیے گئے امام مسجد اقصیٰ میں سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ معزز اور محترم شخصیت ہیں۔

انہوں نے مسجد اقصیٰ کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔ فلسطینی عوام میں بہت مقبول ہیں۔

ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے محافظ ہیں۔

حماس کا ردعمل

حماس نے گرفتاری کو غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ مقدس مقامات پر حملہ ہے۔

حماس نے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قابل قبول نہیں۔

تنظیم نے عوام سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی اپیل کی۔

فلسطینی اتھارٹی کا موقف

فلسطینی اتھارٹی نے بھی شدید مذمت کی۔ صدارتی دفتر نے بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔

بیت المقدس میں کشیدگی

گرفتاری کے بعد بیت المقدس میں کشیدگی بڑھ گئی۔ فلسطینیوں نے احتجاج شروع کر دیا۔

نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ اسرائیلی فوج نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

کئی فلسطینی زخمی ہو گئے۔

مسجد اقصیٰ پر حملوں کی تاریخ

اسرائیل مسلسل مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صہیونی آباد کار باقاعدگی سے حملے کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کو نماز سے روکا جاتا ہے۔ مسجد کے اندر داخل ہونے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔

یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔

عالمی برادری کی خاموشی

فلسطینیوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسلامی ممالک سے بھی فعال کردار کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کہا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کا کوئی احترام نہیں۔

پاکستان کا ردعمل

پاکستان نے گرفتاری کی مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا۔

پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی۔ فلسطینیوں سے یکجہتی کا اعادہ کیا۔

مسجد اقصیٰ کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔

اسلامی دنیا کا ردعمل

ترکی نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ صدر اردوان نے بیان جاری کیا۔

سعودی عرب، مصر اور اردن نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ او آئی سی نے ہنگامی اجلاس کی تجویز دی۔

ایران نے بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امام کی رہائی کا مطالبہ

فلسطینی تنظیموں نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ امام کو فوری رہا کیا جائے۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی۔ رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔

مزید گرفتاریوں کا خطرہ

رپورٹس کے مطابق اسرائیل مزید گرفتاریاں کر سکتا ہے۔ مسجد اقصیٰ سے وابستہ افراد خطرے میں ہیں۔

فلسطینی رہنماؤں نے ہوشیار رہنے کا کہا۔ مسجد کی حفاظت کو بڑھایا جائے۔

اختتامیہ

مسجد اقصیٰ کے امام کی گرفتاری اسرائیلی جارحیت کی ایک اور مثال ہے۔ فلسطینی عوام اور عالمی مسلمان شدید غم و غصے میں ہیں۔ عالمی برادری کو فوری اقدام کرنا چاہیے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ مسجد اقصیٰ کی حرمت کا تحفظ ضروری ہے۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں