لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹوں گینگ کیس کی سماعت کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ جب ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اور رمضان کا ذکر آیا تو جج صاحب نے دلچسپ ریمارکس دیے جس سے عدالت میں ہلکا پھلکا ماحول بن گیا۔
سماعت کا پس منظر
چھوٹوں گینگ کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یہ ایک سنگین کرمنل کیس ہے۔
آج کی سماعت میں مختلف نکات پر بحث ہوئی۔ وکلاء اور عدالت کے درمیان گفتگو جاری تھی۔
اسی دوران ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا ذکر آ گیا۔
ورلڈکپ کا ذکر کیسے آیا
سماعت کے دوران ایک وکیل نے رمضان المبارک میں کیس کی سماعت کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ رمضان میں پاکستان ورلڈکپ جیت سکتا ہے۔
یہ سن کر جج صاحب نے مسکرا کر کہا کہ یہ دعا تو اچھی ہے۔
عدالت میں ہنسی کا ماحول بن گیا۔
جج کے دلچسپ ریمارکس
جج صاحب نے کہا کہ "ورلڈکپ جیتنا تو ہم سب چاہتے ہیں لیکن کیس بھی نمٹانا ضروری ہے۔”
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ "اگر ورلڈکپ جیتنے کے لیے رمضان کی ضرورت ہے تو ہمیں بھی افطاری میں شامل کر لیں۔”
موجودہ وکلاء اور عملہ ہنس پڑے۔
عدالت میں ماحول
سنجیدہ کیس کی سماعت میں یہ ہلکا پھلکا لمحہ تھا۔ جج نے اچھے انداز میں ماحول کو ہلکا کیا۔
تاہم پھر فوری طور پر سنجیدگی سے کیس کی سماعت جاری رکھی۔ عدالت نے کیس میں اہم احکامات جاری کیے۔
یہ عدالت میں عام نہیں ہوتا۔
چھوٹوں گینگ کیس کی اہمیت
چھوٹوں گینگ لاہور کا ایک بدنام زمانہ کرمنل گینگ تھا۔ متعدد سنگین جرائم میں ملوث تھا۔
کیس لمبا چل رہا ہے۔ متعدد ملزمان شامل ہیں۔
یہ ایک اہم کیس ہے جو عوامی توجہ کا مرکز ہے۔
کرکٹ اور عدلیہ
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کتنی مقبول ہے۔ عدالتوں میں بھی اس کا ذکر آ جاتا ہے۔
ورلڈکپ کی خواہش ہر پاکستانی کی ہے۔ جج بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ لوگوں نے جج کے ریمارکس کو پسند کیا۔
کچھ نے کہا کہ جج بھی انسان ہیں اور کرکٹ کے شوقین ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔
مزاحیہ تبصرے بھی آئے۔
اختتامیہ
چھوٹوں گینگ کیس کی سماعت میں ورلڈکپ کے ذکر پر جج کے دلچسپ ریمارکس نے ثابت کیا کہ سنجیدہ ماحول میں بھی ہلکے پھلکے لمحات آ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان میں کرکٹ کی مقبولیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





