کولمبو: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستانی کپتان بابر اعظم ایک نئے اعداد و شمار میں سرفہرست آ گئے ہیں جو ان کے لیے شرمناک ہے۔ بابر اعظم کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کی ایک وجہ بھی سمجھے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
اس ورلڈکپ میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ تمام بلے بازوں میں سب سے کم ہے۔ وہ 100 سے بھی کم اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں یہ تشویشناک بات ہے۔ تیز رفتار رنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسرے ٹاپ بیٹسمین ان سے بہتر اسٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں۔
موازنہ دوسرے کھلاڑیوں سے
بھارتی کپتان اور دیگر ٹیموں کے کھلاڑی 140 سے 160 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہے ہیں۔
بابر اعظم اس سے بہت پیچھے ہیں۔ یہ فرق پاکستان کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی میں تیز رفتار بیٹنگ لازمی ہے۔
تنقید میں اضافہ
بابر اعظم پر تنقید کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ سابق کھلاڑی اور تجزیہ کار ان کی سست بیٹنگ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
کرکٹ شائقین سوشل میڈیا پر ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کپتانی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
ٹیم کی ہار کا الزام بھی بابر پر آ رہا ہے۔
بابر کا دفاع
بابر اعظم کے حامیوں نے کہا کہ وہ انچر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسرے کھلاڑیوں کو سپورٹ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بابر کی وجہ سے ٹیم منظم رہتی ہے۔ کلاس کھلاڑی ہیں۔
تاہم ٹی ٹوئنٹی میں یہ دفاع کمزور لگتا ہے۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ ماہرین نے کہا کہ بابر کو اپنا انداز بدلنا ہوگا۔ ٹی ٹوئنٹی میں جارحانہ بیٹنگ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر میں صلاحیت ہے لیکن رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
کوچنگ اسٹاف کو بھی سوچنا چاہیے۔
پاکستانی ٹیم پر اثر
بابر کی سست بیٹنگ ٹیم کے کل اسکور کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان مسابقتی ٹوٹل نہیں بنا پا رہا۔
اس سے میچ جیتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ٹیم کی کامیابی متاثر ہو رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا
پاکستان کے پاس ابھی کچھ میچ باقی ہیں۔ بابر کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔
اگر وہ اسٹرائیک ریٹ بڑھائیں تو ٹیم کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ مزید تنقید کا سامنا ہوگا۔
پاکستان کی کامیابی بابر کی فارم پر منحصر ہے۔
اختتامیہ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بابر اعظم کا کم ترین اسٹرائیک ریٹ کی فہرست میں سرفہرست ہونا تشویشناک ہے۔ انہیں اپنا انداز تبدیل کرنا ہوگا تاکہ پاکستانی ٹیم بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





