اسلام آباد: امام بارگاہ حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو امدادی رقوم دی گئیں

اسلام آباد: اسلام آباد میں امام بارگاہ پر دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے شہداء کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے امدادی چیکس تقسیم کیے گئے۔ وزیراعلیٰ اسلام آباد نے خود شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تعزیت کی۔ حکومت نے زخمیوں کے علاج کی یقین دہانی بھی کرائی۔

حملے کا پس منظر

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اس المناک واقعے میں کئی نمازی شہید ہو گئے تھے۔

متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ پورے ملک میں صدمے کا باعث بنا۔

دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

امدادی رقوم کی تقسیم

آج وزیراعلیٰ اسلام آباد نے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ گہری تعزیت کی۔

ہر شہید کے اہل خانہ کو امدادی چیک دیا گیا۔ رقم کافی ہے تاکہ فوری مالی مشکلات میں مدد ہو سکے۔

زخمیوں کے لیے علاج کی سہولیات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

وزیراعلیٰ کا بیان

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ہم نے دہشت گردوں کو شکست دینی ہے۔

انہوں نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کی قربانی کو سلام کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ حکومت ہے۔

لواحقین کا ردعمل

شہداء کے اہل خانہ نے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امداد مشکل وقت میں مددگار ہوگی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے پیاروں کو کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ انصاف چاہیے۔

لواحقین نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سیکیورٹی اقدامات

حکومت نے امام بارگاہوں اور مساجد کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔

سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ واک تھرو گیٹس لگائے جا رہے ہیں۔

عبادت گاہوں کی حفاظت یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

عوامی ردعمل

عوام نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کی قربانی کو سلام کیا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے شہداء کے لیے دعائیں کیں۔ لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اظہار ہوا۔

اختتامیہ

اسلام آباد امام بارگاہ حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو امدادی رقوم کی فراہمی ایک اچھا قدم ہے۔ حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔ شہداء کو خراج عقیدت۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔