ایران نے راکٹ لانچ کا نوٹم جاری کر دیا، روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہونے والی

تہران: ایران نے روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں سے عین قبل ایک بڑا اقدام کرتے ہوئے راکٹ لانچ کے لیے نوٹم (NOTAM) جاری کر دیا ہے۔ یہ اطلاع بین الاقوامی طیاروں کو دی گئی ہے کہ وہ مخصوص علاقوں سے دور رہیں۔ یہ اقدام خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔

نوٹم کیا ہے

NOTAM (Notice to Airmen) ہوائی جہازوں کے لیے انتباہ ہوتا ہے۔ اس میں خطرناک علاقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

ایران نے اعلان کیا کہ مخصوص تاریخ اور وقت پر راکٹ لانچ ہوگا۔ طیارے اس علاقے سے دور رہیں۔

یہ فوجی سرگرمی کی علامت ہے۔

روس کے ساتھ مشترکہ مشقیں

ایران اور روس مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔ یہ بحری اور فضائی مشقیں ہیں۔

دونوں ممالک نے کہا کہ یہ دفاعی تعاون ہے۔ کسی کے خلاف نہیں۔

تاہم مغربی ممالک تشویش میں ہیں۔

راکٹ لانچ کا مقصد

ایران نے واضح نہیں کیا کہ کس قسم کا راکٹ لانچ ہوگا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ٹیسٹ ہو سکتا ہے۔

یہ فوجی مشقوں کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ طاقت کا مظاہرہ بھی ہو سکتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کو پیغام بھی ہو سکتا ہے۔

امریکا کا ردعمل

امریکا نے ایران کے اقدام پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ ایران کی میزائل پروگرام خطرناک ہے۔

امریکا نے خطے میں اپنی افواج کو الرٹ کر دیا۔

اسرائیل کا موقف

اسرائیل نے ایران کے راکٹ لانچ کو سنگین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے لیے خطرہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنی تیاری بڑھا دی ہے۔ میزائل دفاعی نظام فعال کر دیا۔

اسرائیل نے ایران کو انتباہ دیا۔

خلیجی ممالک کی تشویش

خلیجی عرب ممالک بھی تشویش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی بڑھاتی ہیں۔

سعودی عرب اور امارات نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

روس ایران اتحاد

روس اور ایران کی قربت بڑھ رہی ہے۔ دونوں مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

فوجی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یوکرین جنگ میں بھی ایران نے روس کی مدد کی ہے۔

یہ اتحاد مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

پاکستان کی پوزیشن

پاکستان ایران اور مغربی ممالک دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ توازن برقرار رکھنا مشکل ہے۔

پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔ کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

اختتامیہ

ایران کا راکٹ لانچ کے لیے نوٹم جاری کرنا اور روس کے ساتھ مشترکہ مشقوں کا انعقاد خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔