بھارت کی AI سمٹ عالمی سطح پر رسوائی، شائننگ انڈیا کا دعویٰ دھری کا دھرا رہ گیا

نئی دہلی: بھارت نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ایک عالمی سمٹ کا انعقاد کیا تھا جس میں بھارت خود کو ٹیکنالوجی کی سپر پاور کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔ تاہم یہ سمٹ شرمناک تکنیکی خرابیوں اور بد انتظامی کی وجہ سے عالمی سطح پر رسوائی کا باعث بن گئی۔ "شائننگ انڈیا” کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو گیا۔

سمٹ کا مقصد

بھارت نے AI سمٹ کا انعقاد دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کیا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے۔ شائننگ انڈیا کا نعرہ لگایا گیا۔

عالمی سطح کے ماہرین اور کمپنیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ بڑے دعوے کیے گئے تھے۔

تاہم حقیقت کچھ اور نکلی۔

تکنیکی خرابیاں

سمٹ میں شرکت کرنے والوں نے شکایت کی کہ انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا۔ پریزنٹیشنز کے دوران سسٹم کریش ہو رہے تھے۔

AI کی تقریب میں بنیادی ٹیکنالوجی ناکام رہی۔ یہ انتہائی شرمناک تھا۔

عالمی شرکاء نے حیرانی کا اظہار کیا۔

بد انتظامی

انتظامات بھی بہت خراب تھے۔ شرکاء کو طویل انتظار کرنا پڑا۔

کھانے پینے کا مناسب انتظام نہیں تھا۔ سیکیورٹی کے نام پر پریشانی تھی۔

منتظمین ناتجربہ کار لگے۔

عالمی میڈیا کی تنقید

بین الاقوامی میڈیا نے سمٹ کی بھرپور تنقید کی۔ کئی رپورٹس شائع ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر میمز وائرل ہوئے۔ بھارت کے دعووں کا مذاق اڑایا گیا۔

"شائننگ انڈیا” کی بجائے "failing India” کہلایا گیا۔

شرکاء کے تبصرے

کئی عالمی شرکاء نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت کی بربادی تھی۔

کچھ نے کہا کہ AI سمٹ میں AI کام نہیں کر رہا تھا۔ یہ بڑی آئرنی ہے۔

بھارتی حکومت کا ردعمل

بھارتی حکومت نے کوشش کی کہ رسوائی کو چھپایا جائے۔ میڈیا کو دبانے کی کوشش کی۔

سرکاری میڈیا نے سمٹ کو کامیاب قرار دیا۔ تاہم عالمی میڈیا نے حقیقت بیان کی۔

شائننگ انڈیا کا جھوٹا دعویٰ

بھارت برسوں سے "شائننگ انڈیا” کا نعرہ لگاتا آ رہا ہے۔ تاہم حقیقت مختلف ہے۔

غربت، بے روزگاری، اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ابھی موجود ہے۔

یہ سمٹ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ دعوے کھوکھلے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کا ردعمل

پاکستانی میڈیا نے بھارت کی رسوائی کو اجاگر کیا۔ سوشل میڈیا پر بحث ہوئی۔

لوگوں نے کہا کہ جھوٹے دعووں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اختتامیہ

بھارت کی AI سمٹ عالمی سطح پر رسوائی کا باعث بنی۔ تکنیکی خرابیوں اور بد انتظامی نے "شائننگ انڈیا” کے دعوے کو کھوکھلا ثابت کر دیا۔ حقیقت پسندی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ضروری ہے نہ کہ جھوٹے نعرے۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں