لندن: سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی ڈیٹا اسٹوریج ٹیکنالوجی ایجاد کر لی ہے جو موجودہ طریقوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ یہ ایجاد ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ نئی اسٹوریج میں بے پناہ ڈیٹا کم جگہ میں محفوظ کیا جا سکے گا اور یہ صدیوں تک محفوظ رہے گا۔
نئی ٹیکنالوجی کیا ہے
سائنسدانوں نے DNA-based ڈیٹا اسٹوریج ایجاد کی ہے۔ اس میں ڈیٹا کو DNA کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی قدرتی طور پر انتہائی طاقتور اور پائیدار ہے۔ DNA ہزاروں سال تک محفوظ رہ سکتی ہے۔
ابتدائی تجربات کامیاب رہے ہیں۔
فوائد کیا ہیں
اس نئی اسٹوریج میں لاکھوں گیگا بائٹس ڈیٹا ایک چھوٹے سے مالیکیول میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ ہارڈ ڈسکس کے مقابلے میں جگہ بہت کم لگے گی۔ پوری لائبریری ایک قطرے میں محفوظ ہو سکتی ہے۔
توانائی کی ضرورت بھی بہت کم ہوگی۔
کیسے کام کرتی ہے
ڈیٹا کو بائنری کوڈ (0 اور 1) سے DNA کے چار حروف (A, T, G, C) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
پھر یہ DNA مالیکیول بنایا جاتا ہے۔ اسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
ضرورت پڑنے پر DNA کو پڑھ کر ڈیٹا واپس حاصل کیا جاتا ہے۔
تجربات کی کامیابی
سائنسدانوں نے ایک پوری فلم کو DNA میں محفوظ کیا اور واپس نکالا۔ یہ کامیاب رہا۔
کتابوں، تصاویر، اور آڈیو کو بھی محفوظ کیا گیا۔ تمام تجربات کامیاب رہے۔
یہ ثابت ہو گیا کہ ٹیکنالوجی کام کرتی ہے۔
چیلنجز
ابھی یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے۔ عام استعمال کے لیے سستا بنانا ہوگا۔
ڈیٹا لکھنے اور پڑھنے میں وقت لگتا ہے۔ اسے تیز کرنا چیلنج ہے۔
تاہم سائنسدان محنت کر رہے ہیں۔
مستقبل میں استعمال
یہ ٹیکنالوجی تاریخی ریکارڈز محفوظ کرنے میں استعمال ہوگی۔ لائبریریاں اسے استعمال کر سکتی ہیں۔
کمپنیاں بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بجائے چھوٹی جگہ استعمال کر سکیں گی۔
خلائی مشنز میں بھی استعمال ممکن ہے۔
ماہرین کی رائے
ٹیکنالوجی ماہرین نے کہا کہ یہ ایجاد گیم چینجر ہے۔ ڈیٹا اسٹوریج میں انقلاب آئے گا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ عام استعمال میں آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔
پاکستان میں تحقیق
پاکستان میں بھی کچھ یونیورسٹیاں بائیو ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔ تاہم اس سطح کی تحقیق ابھی نہیں ہو رہی۔
پاکستانی سائنسدانوں کو بھی اس میدان میں آنا چاہیے۔
اختتامیہ
سائنسدانوں کی جانب سے نئی قسم کی DNA-based ڈیٹا اسٹوریج کی ایجاد ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑا قدم ہے۔ یہ مستقبل میں ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ بن سکتا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





