پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم سہیل آفریدی سے سوال پوچھنے والی طالبہ کے والد کی برطرفی کی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ اس خبر نے شدید ردعمل پیدا کیا اور لوگوں نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا۔ تاہم اب حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
واقعے کا پس منظر
چند روز قبل وزیر تعلیم سہیل آفریدی ایک تعلیمی ادارے میں تقریب میں شریک ہوئے۔ ایک بہادر طالبہ نے تعلیم کے مسائل پر سوال پوچھا۔
سوال بے باکانہ اور سیدھا تھا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور طالبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
بعد میں یہ خبر پھیلی کہ طالبہ کے والد کو نوکری سے نکال دیا گیا۔
وائرل خبر
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ طالبہ کے والد کو سرکاری نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ انتقامی کارروائی بتایا گیا۔
لوگوں نے سخت ردعمل دیا اور حکومت پر تنقید کی۔ ہیش ٹیگ ٹرینڈ ہونے لگے۔
معاملہ بڑھنے لگا۔
حقیقت کیا ہے
تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ والد کی برطرفی کا معاملہ سوال سے پہلے کا ہے۔ یہ محکمانہ کارروائی تھی جو مہینوں پہلے ہوئی۔
دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ سوشل میڈیا پر دونوں کو جوڑ دیا گیا۔
یہ غلط معلومات تھی۔
سہیل آفریدی کی وضاحت
وزیر تعلیم سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ طالبہ کے سوال کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ طالبہ کی بہادری قابل تعریف ہے۔ سوال پوچھنا تعلیم کا حصہ ہے۔
والد کی برطرفی کا سوال سے کوئی تعلق نہیں۔
محکمے کی تصدیق
متعلقہ محکمے نے بھی تصدیق کی کہ برطرفی کا معاملہ مہینوں پرانا ہے۔ مختلف وجوہات تھیں۔
سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی خبر بے بنیاد تھی۔
فیک نیوز کا مسئلہ
یہ واقعہ فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی مثال ہے۔ سوشل میڈیا پر تصدیق کے بغیر خبریں وائرل ہو جاتی ہیں۔
یہ بے گناہوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ذمہ دار شہریت کا تقاضا ہے کہ خبروں کی تصدیق کریں۔
طالبہ کی حوصلہ افزائی
اس پورے واقعے میں طالبہ کی بے باکی قابل تعریف رہی۔ انہوں نے وزیر سے سوال پوچھنے کی ہمت کی۔
تعلیمی ماہرین نے کہا کہ ایسی ہی جرات ہمیں طلبا میں پیدا کرنی چاہیے۔
یہ جمہوری اور تعلیمی اقدار ہیں۔
اختتامیہ
سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ کے والد کی برطرفی کی خبر مکمل طور پر غلط تھی۔ دونوں واقعات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر خبروں کی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





