ایران کو جوہری معاہدے پر لانے کیلئے ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کرسکتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری معاہدے پر واپس لانے کیلئے محدود فوجی کارروائی پر غور کرسکتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ اقدامات کا مقصد دباؤ بڑھانا اور مذاکرات کی نئی راہ ہموار کرنا ہوسکتا ہے۔

پس منظر اور تناظر

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام کا تنازع کئی برسوں سے جاری ہے۔ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی۔

تاہم امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سے خطے میں سکیورٹی خدشات، پابندیاں، اور سفارتی کشمکش مسلسل جاری رہی۔ ماہرین کے مطابق جوہری معاہدہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی محدود فوجی کارروائی ایران جوہری معاہدہ: تازہ پیش رفت

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے قریبی پالیسی حلقوں میں اس امکان پر بحث ہوئی کہ محدود نوعیت کی فوجی کارروائی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے دباؤ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد مکمل جنگ نہیں بلکہ مخصوص عسکری اہداف کو نشانہ بنانا ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اکثر سفارتی حکمت عملی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں تاکہ مخالف فریق پر سیاسی اور نفسیاتی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ تاہم اس قسم کے اقدامات کے خطرات بھی نمایاں ہوتے ہیں، جن میں کشیدگی کا پھیلاؤ شامل ہے۔

سرکاری بیانات اور سفارتی ردعمل

امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم پالیسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے حلقے موجود ہیں جو دباؤ بڑھانے کی حمایت کرتے ہیں۔

ایرانی حکام ماضی میں واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی فوجی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور اسے دفاعی خودمختاری کا حق حاصل ہے۔

یورپی ممالک عموماً سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے بارہا مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

علاقائی اور عالمی اثرات

مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات کا مرکز ہے۔ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک، اسرائیل، اور دیگر علاقائی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی منڈی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ایران تیل پیدا کرنے والا اہم ملک ہے، اس لئے کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔ اس کا اثر ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، پر بھی پڑ سکتا ہے۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر دباؤ کی حکمت عملی اختیار کی گئی تو مذاکرات کی نئی کوششیں سامنے آسکتی ہیں۔ دوسری جانب کسی بھی فوجی قدم سے کشیدگی میں تیزی سے اضافہ بھی ممکن ہے۔

امریکی سیاسی منظرنامہ بھی اس معاملے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ خارجہ پالیسی اکثر داخلی سیاسی ترجیحات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، اس لئے مستقبل کے فیصلے کئی عوامل پر منحصر ہوں گے۔

نتیجہ

ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ عالمی سکیورٹی کیلئے حساس موضوع بنا ہوا ہے۔ ممکنہ محدود فوجی کارروائی کی خبریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سفارتی اور عسکری دونوں راستے زیر غور ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار حل کیلئے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ ثابت ہوسکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ آیا کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا سفارت کاری کو نئی کامیابی ملتی ہے۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں