افغانستان دہشت گردی کا مرکز: عالمی تشویش میں اضافہ، پاکستان کو خطرہ

اسلام آباد: افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بن گیا ہے۔ پاکستان سمیت پورا خطہ اس خطرے سے دوچار ہے۔

کون سی تنظیمیں موجود ہیں

افغانستان میں القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی، اور دیگر دہشت گرد گروہ فعال ہیں۔ یہ تنظیمیں آزادانہ سرگرمیاں کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

طالبان حکومت انہیں کنٹرول نہیں کر رہی۔

پاکستان کو خطرہ

پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے ہے۔ یہ تنظیم افغانستان سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نشانہ بن رہی ہیں۔

افغانستان سے سرحد پار سے حملے ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا موقف

پاکستان نے طالبان حکومت سے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانی سرزمین کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں پناہ ملی ہوئی ہے۔

پاکستانی حکام نے افغان حکومت سے تعاون کا مطالبہ کیا۔

طالبان کا ردعمل

طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغان سرزمین سے دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

تاہم حقیقت میں دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ کام کر رہی ہیں۔

عالمی برادری

عالمی برادری نے افغانستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو ختم کریں۔

پاکستان کے اقدامات

پاکستان نے سرحد پر سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ باڑ لگانے کا کام تیز کر دیا گیا۔

افغانستان میں ٹھکانوں پر کارروائیوں کی بھی رپورٹس آئی ہیں۔

پاکستان نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

خطے پر اثرات

افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ پورے خطے کے لیے سنگین ہے۔ وسطی ایشیا، چین، ایران سب متاثر ہو سکتے ہیں۔

خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

اختتامیہ

افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثر خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی برادری کو افغان طالبان پر دباؤ بڑھانا چاہیے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔

مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔