کیلیفورنیا: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔ میٹا (فیسبک کی مالک کمپنی) نے اپنی مشہور میسنجر ایپ کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ دنیا بھر کے اربوں صارفین کو متاثر کرے گا۔ کمپنی نے کہا کہ میسنجر کی تمام خدمات آئندہ چھ ماہ میں مرحلہ وار بند کی جائیں گی۔
حیران کن اعلان
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے باقاعدہ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
میسنجر ایپ کو واٹس ایپ اور فیسبک میں ضم کیا جائے گا۔ علیحدہ ایپ کی ضرورت نہیں رہی۔
یہ فیصلہ آئندہ 6 ماہ میں نافذ ہوگا۔
بند ہونے کی وجوہات
میٹا نے کہا کہ ایک ہی طرح کی تین ایپس چلانا فضول ہے۔ واٹس ایپ زیادہ مقبول ہو گئی ہے۔
میسنجر کے صارفین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ مینٹیننس کا خرچ زیادہ ہے۔
کمپنی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
صارفین کی تعداد
میسنجر کے دنیا بھر میں تقریباً 1 ارب سے زائد فعال صارفین ہیں۔ یہ ایک بڑی تعداد ہے۔
تاہم واٹس ایپ کے 2.5 ارب سے زائد صارفین ہیں۔ فرق واضح ہے۔
میٹا نے صارفین کو واٹس ایپ پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔
صارفین کا ڈیٹا کیا ہوگا
میٹا نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ چیٹس، تصاویر اور ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
صارفین کو 6 ماہ کا وقت ملے گا۔ وہ اپنا ڈیٹا محفوظ کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر آٹومیٹک ٹرانسفر کا آپشن بھی ہوگا۔
فیسبک میسنجر کی تاریخ
فیسبک میسنجر 2011 میں لانچ ہوئی تھی۔ یہ فیسبک کا حصہ تھی۔
2014 میں علیحدہ ایپ بنائی گئی۔ کئی سال تک بہت مقبول رہی۔
تاہم حالیہ برسوں میں واٹس ایپ نے بازی مار لی۔
واٹس ایپ میں ضم ہونا
میٹا نے کہا کہ میسنجر کے بہترین فیچرز واٹس ایپ میں شامل کیے جائیں گے۔ گیم اور دیگر خدمات بھی منتقل ہوں گی۔
صارفین کو واٹس ایپ پر زیادہ فیچرز ملیں گے۔ تجربہ بہتر ہوگا۔
عالمی ردعمل
ٹیک برادری میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔ ماہرین نے کہا کہ یہ بڑا فیصلہ ہے۔
کچھ نے کہا کہ یہ صحیح سمت میں قدم ہے۔ دوسروں نے تنقید کی۔
صارفین میں مخلوط ردعمل ہے۔
صارفین کی شکایات
بہت سے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہیں میسنجر پسند تھی۔
کچھ نے کہا کہ واٹس ایپ کا انٹرفیس الگ ہے۔ انہیں ایڈجسٹ ہونے میں مشکل ہوگی۔
سوشل میڈیا پر احتجاج شروع ہو گیا۔
کاروباری صارفین پر اثر
کئی کاروبار میسنجر استعمال کرتے تھے۔ انہیں واٹس ایپ بزنس پر منتقل ہونا ہوگا۔
میٹا نے کہا کہ بزنس اکاؤنٹس کی خصوصی سہولت ہوگی۔ ٹرانسفر آسان بنایا جائے گا۔
متبادل کیا ہیں
صارفین کے پاس متعدد آپشنز ہیں۔ واٹس ایپ سب سے آسان ہے۔
ٹیلیگرام، سگنل، اور دیگر ایپس بھی موجود ہیں۔ لوگ اپنی پسند کی ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔
مرحلہ وار بندش
پہلے مرحلے میں نئی رجسٹریشن بند ہوں گی۔ موجودہ صارفین استعمال کر سکیں گے۔
دوسرے مرحلے میں کچھ فیچرز بند ہوں گے۔ تیسرے مرحلے میں مکمل بندش ہوگی۔
یہ عمل 6 ماہ میں مکمل ہوگا۔
پاکستان میں اثرات
پاکستان میں لاکھوں لوگ میسنجر استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بھی واٹس ایپ پر منتقل ہونا ہوگا۔
پاکستانیوں میں واٹس ایپ پہلے سے مقبول ہے۔ اس لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔
ماہرین کی رائے
ٹیک ماہرین نے کہا کہ یہ فیصلہ اقتصادی ہے۔ ایک ایپ چلانا آسان اور سستا ہے۔
کچھ نے کہا کہ صارفین کی پسند کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
اختتامیہ
میٹا کا میسنجر ایپ بند کرنے کا فیصلہ ٹیک دنیا میں بڑی خبر ہے۔ اربوں صارفین متاثر ہوں گے لیکن انہیں واٹس ایپ جیسے متبادل میسر ہیں۔ آئندہ 6 ماہ میں صارفین کو اپنا ڈیٹا محفوظ کرنا اور نئی ایپ پر منتقل ہونا ہوگا۔ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں تبدیلی کا ایک اور مرحلہ ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





