کابل: افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال اور غیر ملکی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات سامنے آئے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت چینی کارکنوں کو مقامی شدت پسند گروہوں کے حملوں سے مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ستمبر 2024 سے اب تک 7 حملوں میں 9 چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کی تفصیلات
امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر سے وابستہ محقق سارہ گوڈاک نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری خطرے میں ہے۔
طالبان حکومت سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
سرحدی علاقوں میں حملے
افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب سونے کی کانوں پر کام کرنے والے چینی مزدوروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک کم از کم 7 حملے ہوئے۔
ان حملوں میں 9 چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
طالبان کی ذمہ داری
افغانستان میں جاری چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری طالبان حکومت کی ہے۔
تاہم اس کے باوجود غیر ملکی کارکن شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔
طالبان سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائیدار استحکام کے لیے داخلی سیکیورٹی بہتر بنانا ضروری ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کارکنوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
ورنہ اقتصادی منصوبے متاثر ہوں گے۔
چینی سرمایہ کاری کا خطرہ
چین افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ خاص طور پر کان کنی کے شعبے میں۔
لیکن سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے یہ سرمایہ کاری خطرے میں ہے۔
چین کو افغانستان سے توقعات تھیں لیکن حالات مایوس کن ہیں۔
طالبان کا موقف
افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا۔
طالبان حکومت اس سے قبل ملک میں سیکیورٹی کی بہتری کے دعوے کرتی رہی ہے۔
تاہم حقائق کچھ اور ہیں۔
اختتامیہ
افغانستان میں چینی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ طالبان حکومت سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو چینی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور افغانستان کی معیشت مزید خراب ہوگی۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





