کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل نے حوالہ/ہنڈی کے ذریعے بھاری رقوم کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایک معروف اشتہاری ایجنسی کی جانب سے 9 ملین اماراتی درہم (تقریباً 735 ملین پاکستانی روپے) کی غیر قانونی ترسیل کا انکشاف ہوا۔
کیس کی تفصیلات
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی آر نمبر 10/2026 کی تفتیش کے دوران حوالہ/ہنڈی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔
ایک معروف اشتہاری ایجنسی کی جانب سے غیر ملکی اکاؤنٹس میں بھاری رقوم کی غیر قانونی منتقلی سامنے آئی۔
تحقیقات کے مطابق 9 ملین اماراتی درہم (تقریباً 735 ملین پاکستانی روپے) کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔
گرفتار ملزم
اشتہاری کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ملزم حوالہ ہنڈی نیٹ ورک میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
حوالہ ہنڈی کیا ہے
حوالہ ہنڈی ایک غیر قانونی طریقہ ہے جس میں بینکنگ چینلز سے باہر رقوم منتقل کی جاتی ہیں۔
یہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان میں یہ جرم ہے۔
مزید کارروائیاں
کیس میں ملوث دیگر افراد اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
ایف آئی اے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اختتامیہ
ایف آئی اے کی یہ کارروائی حوالہ ہنڈی کے خلاف اہم قدم ہے۔ 9 ملین درہم کی غیر قانونی ترسیل کا انکشاف بڑی کامیابی ہے۔ مزید ملوث افراد کی گرفتاری کا انتظار ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





