اسلام آباد: حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں کی گئی مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور بغیر منظوری دی گئی مراعات و انعامات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں متنازع ترمیمی بل پیش کر دیا ہے۔ مجوزہ بل میں کابینہ کے اختیارات سیکریٹری ریونیو ڈویژن کو منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ قانونی ماہرین نے اسے سپریم کورٹ کے مصطفیٰ امپیکس کیس کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بل کی بنیادی تفصیلات
مجوزہ ترمیمی بل ایف بی آر ایکٹ 2007 میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ ماضی میں کیے گئے تمام اقدامات، فیصلوں اور تقرریوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔
یہ بل ان تقرریوں کو تحفظ دے گا جو قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی میں کی گئیں۔ مراعات اور انعامات بھی قانونی ہو جائیں گے۔
اپوزیشن نے اسے "انڈیمنٹی بل” قرار دیا ہے۔
اختیارات کی منتقلی
فی الحال وفاقی کابینہ کو ایف بی آر میں تقرریوں کا اختیار حاصل ہے۔ نیا بل یہ اختیار سیکریٹری ریونیو ڈویژن (گریڈ 22) کو منتقل کرنا چاہتا ہے۔
گریڈ 21 اور 22 کے افسران کی تقرری سیکریٹری کریں گے۔ کابینہ کی منظوری ضروری نہیں ہوگی۔
یہ تبدیلی مستقل نوعیت کی ہے۔
عارضی انتظامات
پارلیمنٹ سے منظوری تک عارضی طور پر سیکریٹری ریونیو ڈویژن کو اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
اس دوران نئی تقرریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ انتظامات قانونی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
مصطفیٰ امپیکس کیس کا حوالہ
سپریم کورٹ نے مصطفیٰ امپیکس کیس میں واضح فیصلہ دیا تھا۔ وفاقی حکومت سے مراد وفاقی کابینہ ہے۔
اختیارات اجتماعی طور پر استعمال ہونے چاہئیں۔ ایک فرد کو تمام اختیارات نہیں دیے جا سکتے۔
نیا بل اس فیصلے کی روح کے خلاف ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین نے بل کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کے خلاف ہے۔
کابینہ کے اختیارات ایک فرد کو نہیں دیے جا سکتے۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔
بل عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے۔
پالیسی بورڈ ختم کرنے کی تجویز
بل میں ایف بی آر پالیسی بورڈ کو ختم کرنے کی تجویز بھی ہے۔ یہ بورڈ پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
اس کی جگہ سیکریٹری ریونیو ڈویژن فیصلے کریں گے۔ یہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔
تنقید کاروں نے کہا کہ یہ چیک اینڈ بیلنس کو ختم کرتا ہے۔
اپوزیشن کا ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے بل کی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی تقرریوں کو جواز فراہم کرتا ہے۔
پارلیمنٹ میں احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ بل کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن نے کہا کہ یہ کرپشن کو قانونی بنانے کی کوشش ہے۔
حکومتی موقف
حکومت نے کہا کہ بل انتظامی سہولت کے لیے ہے۔ تقرریوں میں تاخیر سے بچنا مقصد ہے۔
سیکریٹری ریونیو ڈویژن باصلاحیت افسر ہیں۔ وہ بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔
ماضی کی تقرریوں کو قانونی تحفظ ضروری ہے۔
ماضی کی متنازع تقرریاں
ایف بی آر میں حالیہ برسوں میں کئی متنازع تقرریاں ہوئیں۔ میرٹ کی خلاف ورزی کے الزامات لگے۔
کچھ تقرریوں پر عدالتوں میں کیس بھی چلے۔ اب بل کے ذریعے انہیں قانونی بنایا جا رہا ہے۔
شفافیت کے سوالات
تنقید کاروں نے کہا کہ یہ بل شفافیت کو متاثر کرے گا۔ ایک فرد کے ہاتھ میں بہت زیادہ اختیار ہوں گے۔
احتساب مشکل ہو جائے گا۔ میرٹ کی خلاف ورزی آسان ہو جائے گی۔
پارلیمنٹ میں بحث
بل پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوگی۔ کمیٹیوں میں بھی زیر غور آئے گا۔
اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تلخ بحث متوقع ہے۔
اختتامیہ
ایف بی آر میں غیر قانونی تقرریوں کو قانونی تحفظ دینے والا بل انتہائی متنازع ہے۔ قانونی ماہرین نے اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کابینہ کے اختیارات ایک فرد کو منتقل کرنا آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ پارلیمنٹ میں اس بل پر شدید بحث متوقع ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





