واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر: اب اکاؤنٹ پاس ورڈ سے ہوگا محفوظ

واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر: ‘اکاؤنٹ پاس ورڈ’ کے ذریعے صارفین کو ملے گا اضافی تحفظ

کیلیفورنیا: دنیا کی مقبول ترین انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ اپنے صارفین کے ڈیٹا اور پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ میٹا کی زیرِ ملکیت ایپ واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جسے ‘اکاؤنٹ پاس ورڈ’ (Account Password) کا نام دیا گیا ہے۔ اس فیچر کا مقصد ہیکنگ کی کوششوں کو ناکام بنانا اور صارفین کو تحفظ کی ایک اضافی تہہ فراہم کرنا ہے۔

پس منظر اور ضرورت

موجودہ دور میں سائبر حملوں اور واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے صارفین کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ واٹس ایپ پہلے ہی ‘ٹو اسٹیپ ویریفکیشن’ اور ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ جیسے فیچرز فراہم کر رہا ہے، لیکن ‘اکاؤنٹ پاس ورڈ’ اس نظام کو مزید ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپ ڈیٹ خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو اپنے اکاؤنٹ میں حساس معلومات رکھتے ہیں۔

[Image: WhatsApp security settings and lock icon conceptual image]

واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر: کام کیسے کرے گا؟

بیٹا ورژن سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ نیا پاس ورڈ واٹس ایپ کے روایتی 6 ہندسوں کے ویریفکیشن کوڈ (SMS Code) سے بالکل مختلف ہوگا۔

  • پاس ورڈ کی ساخت: صارفین اپنی پسند کا حروف (Alphabets) اور اعداد (Numbers) پر مشتمل پاس ورڈ بنا سکیں گے۔
  • طوالت: اس پاس ورڈ کی لمبائی 6 سے 20 حروف کے درمیان ہوگی۔
  • لازمی شرط: سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے پاس ورڈ میں کم از کم ایک حرف اور ایک عدد شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

لاگ ان کا طریقہ کار اور تھری لیئر سیکیورٹی

جب یہ فیچر فعال ہو جائے گا، تو نئے فون پر واٹس ایپ لاگ ان کرنے یا اکاؤنٹ کی دوبارہ تصدیق کے وقت صارف کو تین مراحل سے گزرنا ہوگا:

  1. پہلے ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والا عام ویریفکیشن کوڈ درج کرنا ہوگا۔
  2. اگر ‘ٹو اسٹیپ ویریفکیشن’ آن ہے، تو اس کا 6 ہندسوں کا پن دینا ہوگا۔
  3. آخر میں، ایپ صارف سے نیا اکاؤنٹ پاس ورڈ درج کرنے کا تقاضا کرے گی۔

فیچر کی دستیابی اور ٹیسٹنگ

واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر فی الحال تیاری کے مراحل میں ہے اور اسے ڈویلپمنٹ فیز سے گزارا جا رہا ہے۔ دیگر نئے فیچرز کی طرح، اسے بھی پہلے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس (iOS) کے منتخب بیٹا ٹیسٹرز کے لیے جاری کیا جائے گا۔ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد اسے دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے ایپ کے آئندہ ورژن میں وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے گا۔

عالمی اثرات اور ڈیجیٹل پرائیویسی

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ واٹس ایپ کا یہ اقدام ٹیلی گرام اور سگنل جیسی دیگر مسابقتی ایپس کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ڈیجیٹل پرائیویسی کے عالمی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاس ورڈ کا یہ آپشن صارفین کو یہ اطمینان دے گا کہ ان کا اکاؤنٹ صرف ایس ایم ایس کوڈ تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط پاس ورڈ سے بھی جڑا ہوا ہے۔

نتیجہ اور مستقبل کی جھلک

واٹس ایپ کی جانب سے سیکیورٹی کے شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل تبدیلیاں صارفین کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ‘اکاؤنٹ پاس ورڈ’ کے آنے سے سم سوئیپنگ (SIM Swapping) جیسے فراڈ کے ذریعے اکاؤنٹ ہیک کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ایپ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں تاکہ جیسے ہی یہ فیچر جاری ہو، وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا کی ہر بڑی خبر اور تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے "ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام” سے وابستہ رہیں