امریکا کا Freedom.gov پورٹل متعارف کرانے کا منصوبہ، پابندی شدہ آن لائن مواد تک رسائی کی سہولت
امریکا Freedom.gov کے نام سے ایک نیا آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جس کا مقصد مختلف ممالک میں بلاک شدہ ویب سائٹس اور مواد تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا ہدف آزادی اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔
25 فروری 2026 | از ڈیلی فیض اعوام نیوز ڈیسک
Freedom.gov کیا ہے؟
امریکا ایک نیا آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو ایسے مواد تک رسائی فراہم کرنا ہے جس پر مختلف ممالک میں پابندی عائد ہے۔
مجوزہ ویب سائٹ کا نام Freedom.gov رکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پلیٹ فارم ان علاقوں میں بھی قابلِ رسائی ہوگا جہاں ریگولیٹرز نے مخصوص ویب سائٹس کو بلاک کر رکھا ہے۔
منصوبے کا مقصد
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق United States Department of State اس منصوبے کو آزادی اظہارِ رائے کے فروغ اور آن لائن سینسرشپ کے مقابلے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صارفین اس پورٹل کے ذریعے ایسے براؤز کر سکیں گے جیسے وہ امریکا میں موجود ہوں۔
مزید یہ کہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا ٹریک نہیں کیا جائے گا۔
ممکنہ متنازع مواد
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس پورٹل پر وہ ویب سائٹس بھی شامل ہو سکتی ہیں جن پر نفرت انگیز تقاریر یا دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے سے متعلق مواد موجود ہے۔
تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مقصد کسی خاص مواد کی حمایت نہیں بلکہ معلومات تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
ان کے مطابق شہریوں کو مختلف آرا اور معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
یورپ سمیت دیگر خطوں میں دستیابی
Freedom.gov کو خاص طور پر ان ممالک میں فعال بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جہاں سخت آن لائن ضوابط نافذ ہیں۔
یورپ کے بعض ممالک میں مخصوص ویب سائٹس پر پابندیاں عائد ہیں، جس سے صارفین کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔
اس پورٹل کے ذریعے صارفین ان پابندیوں کو بائی پاس کر سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل پالیسی سے متعلق نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
ابتدائی ورژن آن لائن
رپورٹ کے مطابق Freedom.gov کا ایک ابتدائی ورژن آن لائن کر دیا گیا ہے۔
“معلومات طاقت ہے۔ اپنا آزادی اظہارِ رائے کا حق واپس لیں۔ تیار ہو جائیں۔”
یہ پیغام اس منصوبے کے بنیادی مقصد کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم ناقدین کے مطابق اس سے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط سے متعلق سوالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ عالمی ردعمل
ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پورٹل مکمل طور پر فعال ہو گیا تو مختلف ممالک کی حکومتیں اس پر ردعمل دے سکتی ہیں۔
خاص طور پر وہ ممالک جہاں آن لائن مواد پر سخت نگرانی موجود ہے۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر آزادی اظہارِ رائے، ڈیجیٹل خودمختاری اور آن لائن ریگولیشن سے متعلق مباحث کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ مزید تازہ ترین ٹیکنالوجی اور عالمی خبروں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔





