جرمنی میں کھدائی کے دوران 2000 سال قدیم رومی مقام دریافت، پریٹوریم کا پتھر کا زینہ بھی شامل

جرمنی میں 2,000 سال پرانا رومی مقام دریافت، نجی قربان گاہ اور قدیم زینہ سامنے آیا

جرمنی میں تعمیراتی کام کے دوران تقریباً دو ہزار برس قدیم رومی آثار دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافت پہلی صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے رومی دور کی اہم تاریخی معلومات فراہم کرتی ہے۔

25 فروری 2026 | از ڈیلی فیض اعوام نیوز ڈیسک

دریافت کا موقع اور مقام

یہ آثار اس وقت سامنے آئے جب LVR Jewish Museum کی تعمیر کے دوران مزدور کھدائی کر رہے تھے۔ کھدائی میں قدیم ڈھانچوں کے آثار ملنے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ کو موقع پر طلب کیا گیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہاں ایک نجی قربان گاہ موجود تھی جہاں قدیم رومی دیوی دیوتاؤں کے لیے رسومات ادا کی جاتی تھیں۔

دریافت ہونے والی اہم چیزیں

  • ایک نجی قربان گاہ
  • ایک عمارت کی وسیع بنیادیں
  • پتھر سے بنا قدیم زینہ

ان میں سب سے قدیم ڈھانچہ پتھر کا زینہ ہے، جس کا درمیانی حصہ محفوظ حالت میں ملا ہے۔

پریٹوریم سے تعلق

ماہرین کے مطابق یہ زینہ رومی دور کے پریٹوریم کی طرف جاتا تھا۔ پریٹوریم دراصل مقامی رومی گورنر کی سرکاری رہائش گاہ ہوتی تھی۔

یہ زینہ ممکنہ طور پر Rhine River کی جانب جاتا تھا، تاہم اس کے دونوں سروں کا مکمل تعین ابھی باقی ہے۔

تاریخی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت رومی سلطنت کے اس خطے میں مضبوط اثر و رسوخ کا ثبوت ہے۔

تاریخی اہمیت اور آئندہ تحقیق

ماہرین آثار قدیمہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ مقام پہلی صدی عیسوی کے رومی قبضے کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔

مزید کھدائی اور تحقیق کے بعد اس مقام کے بارے میں نئی معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔

حکام نے اعلان کیا ہے کہ دریافت ہونے والے آثار کو محفوظ بنایا جائے گا اور ممکنہ طور پر عوامی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ماہرین کا ردعمل

تاریخی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی دریافتیں یورپ میں رومی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

قربان گاہ اور عمارت کی بنیادیں اس دور کی مذہبی اور انتظامی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ دریافت نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ مزید تازہ ترین تاریخی اور عالمی خبروں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔