وفاقی آئینی عدالت میں 6/6 بینائی کا دلچسپ تذکرہ، جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس

وفاقی آئینی عدالت میں 6/6 بینائی کا دلچسپ تذکرہ، جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس

وفاقی آئینی عدالت میں جوڈیشل الاؤنس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ "میری نظر 6/6 نہیں، دور سے فائل دکھانا ممکن نہیں”۔ عدالت میں ہلکی پھلکی خوش مزاجی دیکھنے کو ملی۔

25 فروری 2026 | از ڈیلی فیض اعوام نیوز ڈیسک

دلچسپ ریمارکس

دورانِ سماعت جسٹس Aamir Farooq نے ریمارکس دیے کہ "وکیل صاحب، آپ دور سے فائل دکھا رہے ہیں، میری نظر 6/6 نہیں ہے۔”

جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا:

"نظر 6/6 بھی ہوتی تب بھی دور سے پڑھنا ممکن نہیں۔ وکلا دوربین یا ٹیلی اسکوپ لے کر پڑھ سکتے ہوں گے۔ مجھ سے نہیں پڑھا جائے گا۔”

یہ ریمارکس عدالت کے دوران وکلا اور دیگر شرکاء کے لیے ہلکی پھلکی خوش مزاجی کا سبب بنے۔

کیس کی سماعت

جسٹس عامر فاروق نے جوڈیشل الاؤنس کیس کے حوالے سے کہا کہ کیس کی کئی کیٹیگریز ہیں اور ایک ہی سماعت میں اتنے طویل کیس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کیٹیگری کے کیس کو الگ سے ٹیک اپ کیا جائے گا۔

بعد ازاں، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔

قانونی ماہرین کا نقطہ نظر

ماہرین کے مطابق آئینی عدالت میں ایسے دلچسپ اور انسانی پہلو کے ریمارکس سماعت کے دوران ماحول کو ہلکا اور غیر رسمی بنا سکتے ہیں، جس سے وکلا اور عدالت کے درمیان بہتر رابطہ قائم رہتا ہے۔ مزید تازہ ترین قانونی اور قومی خبریں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔