جنیوا مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ: امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کو مرکزی نکتہ بنا دیا

جنیوا مذاکرات: امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کو مرکزی نکتہ بنا دیا

جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان تیسرے مذاکراتی دور کا آغاز ہو گیا۔ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بات چیت کا مرکزی موضوع بنا دیا۔

26 فروری 2026 | ڈیلی فیض اعوام نیوز ڈیسک

جنیوا میں تیسرے مذاکراتی دور کا آغاز

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ آج شروع ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی سفارتی تناؤ کے بعد یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

امریکی مؤقف اور میزائل پروگرام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر خطرناک جوہری عزائم رکھنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکا اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی موضوع بنانا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ واشنگٹن اسرائیل مخالف گروہوں کی مبینہ حمایت کے معاملات بھی اٹھانا چاہتا ہے۔

امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

ایرانی ردعمل

ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے۔

تاہم امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حد تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

عمان کا ثالثی کردار

ان مذاکرات میں عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عمانی حکام دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا بنیادی ہدف اعتماد سازی کے اقدامات اور کشیدگی میں کمی ہے۔

تنازع کا پس منظر اور اہمیت

ایران کا جوہری پروگرام کئی برسوں سے مغربی ممالک اور تہران کے درمیان کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے کے مستقبل اور عالمی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔ مزید تازہ ترین عالمی اور سفارتی خبریں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں۔