جنیوا: امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر ہونے والے اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، تاہم دونوں فریقین نے آئندہ ہفتے دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور جلد مزید تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ عمانی ثالثوں کے مطابق اگلا دور ممکنہ طور پر ویانا میں منعقد ہوگا۔
دوسری جانب امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت صدر Donald Trump کے خصوصی ایلچی Steve Witkoff کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکام ایرانی تجاویز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق اہم اختلاف ایران کے یورینیم افزودگی کے حق اور موجودہ ذخائر کے مستقبل پر برقرار ہے۔ امریکا مستقل ضمانتیں اور سخت معائنہ نظام چاہتا ہے تاکہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے، جبکہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتے ہوئے محدود سطح پر افزودگی کی اجازت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، تاہم فریقین کی جانب سے بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
مزید خبریں کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام پر جڑے رہیں





