پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہوا کہ افغان فورسز نے پاکستان ایئر فورس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔
مختلف پوسٹس میں طیارے کو کبھی ایف-16 اور کبھی جے ایف-17 قرار دیا گیا، جبکہ جلتے ہوئے ملبے کی ویڈیوز اور تصاویر کو بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
افغان میڈیا ادارے TOLOnews نے 27 فروری 2026 کو رپورٹ کیا کہ افغان فورسز نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک پاکستانی طیارے کو نشانہ بنایا، تاہم طیارے کی نوعیت یا تباہی سے متعلق کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
طالبان ترجمان Zabihullah Mujahid نے سرحدی کارروائیوں کی تصدیق کی، لیکن کسی پاکستانی جنگی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ نہیں کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے BBC نے بھی اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وائرل تصاویر اور ویڈیوز کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔
🔎 فیکٹ چیک کیا کہتا ہے؟
- وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق کوئی پاکستانی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
- کسی پائلٹ کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
- کسی بین الاقوامی یا آزاد دفاعی نگرانی پلیٹ فارم نے اس دعوے کی توثیق نہیں کی۔
- وائرل تصویر دراصل 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی طیارے کے حادثے کی ہے۔
- اوپن سورس تجزیہ کاروں کے مطابق ویڈیوز میں دکھایا گیا سیریل نمبر پاکستان کے کسی فعال طیارے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی کارروائیاں کامیاب رہیں اور تمام طیارے بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آگئے۔
حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ غیر مصدقہ جنگی دعوؤں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد پر اندھا اعتماد نہ کریں اور معلومات کے لیے صرف مستند و سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔





