امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگامی بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہائیوں سے امریکا مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور خطے میں امریکی مفادات پر حملوں کا ذمہ دار بھی ایران ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہم ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے جا رہے ہیں۔ اس آپریشن میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی جا سکتی ہیں، لیکن ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں مکمل استثنیٰ دیا جائے گا، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
“پلان بی” کی اطلاعات
رپورٹس کے مطابق اگر فوجی کارروائی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی تو ایرانی حکومت کو ہٹانے کا متبادل منصوبہ بھی زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے اور مبصرین کے مطابق صورتحال تیزی سے ایک بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے





