چین: جمع پونجی لینے پر بچے نے باپ کیخلاف مقدمہ کر دیا

چین کے صوبہ ہینان کے شہر ژینگژو میں ایک بچے نے اپنی جمع پونجی واپس لینے کے لیے اپنے ہی والد کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق والد نے برسوں پہلے اپنے بیٹے شیاو ہوئی کے نام پر ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا، جس میں قمری سالِ نو (لونر نیو ایئر) پر ملنے والی ’ریڈ اینویلپ منی‘ (ہونگ باؤ) اور دیگر بچت جمع کی جاتی رہی۔

💔 رقم دوسری شادی پر خرچ

والدین کی طلاق کے بعد بچہ والد کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اس دوران اس کی بچت بڑھ کر تقریباً 80 ہزار یوآن (تقریباً 11,700 امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔

بعد ازاں والد نے دوسری شادی کر لی اور مبینہ طور پر بچے کی اجازت کے بغیر ساری رقم نکال کر شادی کے اخراجات پر خرچ کر دی۔

⚖️ عدالت کا فیصلہ

جب بچے نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو والد نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور قانونی سرپرست انہیں رقم استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم عدالت نے یہ دلیل مسترد کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ تحفے میں ملنے والی رقم قانونی طور پر بچے کی ذاتی ملکیت ہے، اور سرپرست ہونے کے باوجود والد کو اس میں تصرف کا حق نہیں تھا۔

عدالتی حکم کے مطابق والد کو 82,750 یوآن (تقریباً 12,060 امریکی ڈالر) بمعہ سود واپس کرنا ہوں گے۔

یہ فیصلہ چین میں بچوں کے مالی حقوق کے حوالے سے ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

 مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔

باخبر رہیں، آگے رہیں۔