پاپ میوزک کے لیجنڈ Michael Jackson کی جائیداد ایک بار پھر قانونی تنازع کی زد میں آ گئی ہے، جہاں چند افراد نے بچوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیشچو خاندان سے تعلق رکھنے والے بہن بھائیوں ایڈورڈ، ڈومینک، میری نکول اور ایلڈو نے دعویٰ کیا ہے کہ کم عمری میں انہیں گلوکار کے اثر و رسوخ کے ذریعے ذہنی طور پر قابو میں رکھا گیا اور ان کا استحصال کیا گیا۔
قانونی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مبینہ واقعات کئی برسوں تک دنیا کے مختلف مقامات پر پیش آتے رہے، اور بعض متاثرین کی عمر اُس وقت سات یا آٹھ سال تھی۔ درخواست کے مطابق متاثرہ افراد کی ملاقات گلوکار سے اپنے والد کے ذریعے ہوئی تھی، جو ایک ایسے ہوٹل میں ملازم تھے جہاں مائیکل جیکسن قیام کیا کرتے تھے۔
دوسری جانب جیکسن کی جائیداد کے وکیل مارٹی سنگر نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدعیان ماضی میں جیکسن کی بے گناہی کی حمایت کرتے رہے اور اب اچانک الزامات عائد کرنا بھاری معاوضہ حاصل کرنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
مدعیان نے مقدمے میں 20 کروڑ ڈالر سے زائد ہرجانے اور تعزیری جرمانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 5 مارچ 2026 کو متوقع ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔
باخبر رہیں، آگے رہیں۔




