اسلام آباد: Federal Constitutional Court of Pakistan نے قرار دیا ہے کہ Supreme Court of Pakistan کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا۔
عدالت کے اہم نکات
- آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا۔
- قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے۔
- زمین کے معاوضے کا تنازع عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں بلکہ نجی نوعیت کا ہے۔
یہ فیصلہ آئینی عدالت کے چیف جسٹس Amin-ud-Din Khan نے جاری کیا۔
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ درخواست گزار اور Multan Development Authority کے درمیان زمین کے معاوضے کے تنازع سے متعلق تھا۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ:
- 2015 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
- 2022 میں دو رکنی بینچ نے اس فیصلے کو تبدیل کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست پہلے ہی خارج ہو چکی ہے، اس لیے اب اس معاملے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔
باخبر رہیں، آگے رہیں۔




