کابل: افغانستان میں Taliban کے اقتدار کے بعد خواتین کے حقوق کی صورتحال بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور عالمی سطح پر ملک کو خواتین کے لیے سب سے خراب ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی پالیسیوں نے خواتین کے بنیادی حقوق کو شدید متاثر کیا ہے۔ سخت قوانین کے باعث خواتین کو تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ میں Georgetown Institute for Women, Peace and Security کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عالمی ویمن پیس اینڈ سکیورٹی انڈیکس میں افغانستان 181 ممالک میں آخری نمبر پر آ گیا ہے۔
📊 رپورٹ کے اہم نکات
- افغانستان میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون تشدد کا شکار ہے۔
- طالبان کے نئے فوجداری قوانین سے گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
- خواتین کو تعلیم اور ملازمت کے مواقع سے بڑی حد تک محروم کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان میں خواتین کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انصاف تک محدود رسائی اور سیاسی عمل میں خواتین کی مکمل عدم موجودگی نے ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے اثرات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ اس سے افغانستان کی معیشت اور عالمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔
باخبر رہیں، آگے رہیں۔ 📢




