پاکستان۔ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کا اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی Haroon Akhtar Khan کی زیر صدارت پاکستان۔ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کا ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں Jawad Paul، مختلف وزارتوں کے حکام اور Special Investment Facilitation Council (ایس آئی ایف سی) کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے اہم نکات

اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم امور کا جائزہ لیا گیا، جن میں:

  • دوطرفہ تجارت کے فروغ کے اقدامات
  • نئے تجارتی راستوں کی تلاش
  • مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون
  • پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر پیش رفت

پانچ سالہ تجارتی روڈ میپ

ہارون اختر خان نے بتایا کہ Shehbaz Sharif کے وژن کے مطابق پاکستان اور Uzbekistan کے درمیان تجارت بڑھانے کیلئے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ازبکستان کے ساتھ طے شدہ پروٹوکولز پر عملدرآمد بھی اسی روڈ میپ کے ذریعے کیا جائے گا۔

آٹھ ورکنگ گروپس قائم

اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے آٹھ ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جنہوں نے اپنے متعلقہ شعبوں کیلئے مجوزہ روڈ میپ اجلاس میں پیش کیے۔

تعاون کے اہم شعبے

اجلاس میں درج ذیل شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا:

  • توانائی
  • ٹرانسپورٹ
  • زراعت
  • صنعت

اس کے علاوہ China کے ذریعے ازبکستان کیلئے متبادل اور مختصر تجارتی راستہ بنانے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

علاقائی تجارت میں اضافہ

دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ:

  • علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے
  • وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے تجارتی مواقع تلاش کیے جائیں
  • دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ کیلئے مشترکہ اقدامات تیز کیے جائیں

مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔
باخبر رہیں، آگے رہیں۔