اسلام آباد: Supreme Court of Pakistan میں دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں Imran Khan (بانی پی ٹی آئی) کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔
تین رکنی بینچ کی سماعت
سماعت جسٹس Ayesha A. Malik کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں
- Justice Hashim Khan Kakar
- Justice Ishtiaq Ibrahim
بھی شامل تھے۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو متعدد مرتبہ جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا:
چار سال بعد دعوے کا جواب جمع کروایا گیا، کیا اتنی تاخیر کے بعد بھی عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی؟
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے بھی وکلاء کو ہدایت دی کہ دلائل دیتے وقت نظرثانی کے دائرہ اختیار کو ذہن میں رکھا جائے۔
وکیل کے دلائل
بانی پی ٹی آئی کے وکیل Ali Zafar نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی زخمی تھے اور اسپتال میں زیر علاج تھے۔
انہوں نے بتایا کہ:
- 3 نومبر 2022 کو بانی پی ٹی آئی پر قاتلانہ حملہ ہوا۔
- سکیورٹی خدشات کے باعث وکلاء کی اسپتال میں ملاقاتیں بھی محدود تھیں۔
- ایسی صورتحال میں بیانِ حلفی جمع کرانا ممکن نہیں تھا۔
وکیل کے مطابق حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے۔
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ Shehbaz Sharif کی جانب سے 2017 میں دائر ہتک عزت کے دعوے سے متعلق ہے۔
دعویٰ اس بیان کے بعد دائر کیا گیا تھا جس میں بانی پی ٹی آئی نے الزام لگایا تھا کہ انہیں Panama Papers scandal کیس سے دستبردار ہونے کے بدلے دس ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔
آئندہ سماعت
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے سول کورٹ کو کارروائی سے عارضی طور پر روکنے کا حکم بھی دیا تھا۔
مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں





